Quran Burning – Facts and Fiction

Sep 1st, 2010 | By | Category: Daily Nawa-i-Waqt

Daily Nawa-i-WaqtWhile the primary focus of this blog has, so far, been English language media, this represents but a small part of the media – and an even smaller part of the problem of inaccurate and misleading stories.

Take, for example, a front page story from the Nawa-i-Waqt newspaper about a Christian church in Florida, USA that has organized a rally to burn copies of the Holy Quran. This article makes the claim that “Western countries have resorted to presumptuous attacks”, and reports that some Ulema have condemned the West and the United Nations for their silence.

But the truth is, there has not been a silence on this matter. It has been widely condemned by Christian religious groups in the US and even the the US government and the UN.

A quick Google search revealed that a newspaper of Baptist Christians in Texas reports that the National Association of Evangelicals has condemned the threat of burning Quran and demanded that it be canceled. Other Christian religious leaders have also condemned the threats. In fact, the newspaper USA Today reported that the officials in the city denied any permits for such an act.

This is an act being threatened by a small group of extremists, and clearly does not represent any official action by American Christians any more than the actions of Hizbut Tahrir represent the official position of the majority of Muslims here.

It should also be noticed that recently in the US there are even churches that have burned bibles.

A North Carolina pastor says his church plans to burn Bibles and books by Christian authors on Halloween to light a fire under true believers.

Pastor Marc Grizzard told Asheville TV station WLOS that the King James version of the Bible is the only one his small western North Carolina church follows. He says all other versions, such as the Living Bible, are “satanic” and “perversions” of God’s word.

Obviously, nobody will accuse the US or the UN of being anti-Christian. And yet they even allow the burning of bibles in America. This is because it is considered part of the right of free speech granted in their Constitution.

Despite this freedom, there has been a loud outcry in the Christian community against the plans for Quran burning, as shown above. But that is not all.

American Ambassador the United Nations Eileen Chamberlain Donahoe has written a public letter to United Nations High Commissioner for Human Right Navanethem Pillay supporting complaints from Ambassador Zamir Akram and condemning the threat to burn any Qu’rans or show any disrespect to Islam.

As United States Ambassador to the UN Human Rights Council, I wanted to register strong support for the request sent to you by my colleague, Ambassador Zamir Akram of Pakistan, in his capacity as Coordinator of the OIC Group on Human Rights and Humanitarian Issues in Geneva, dated July 9, 2010. In his letter, Ambassador Akram called to your attention a report that the Dove Outreach Center in Gainesville, Florida plans to hold an “international burn a Koran Day” on 11 September 2010 in alleged remembrance of the victims of 9/11 and to demonstrate against “the evil of Islam.”

The United States government in no way condones such acts of disrespect. To the contrary, the United States is deeply concerned about deliberate attempts to offend members of religious or ethnic groups. President Obama made clear in Cairo in his speech on June 4, 2009 that he considers it part of his responsibility as President to fight against negative stereotypes of Islam wherever they occur, a responsibility I share. I also note that many Americans of all faiths disagree with this initiative by the Dove Outreach Center. The Council on American-Islamic Relations, for example, is using education and outreach to counter this “Burn the Koran” campaign with a campaign to share the Koran.

As you know, Madame High Commissioner, the United States strongly believes that the best antidote to intolerance is a combination of robust legal protections against discrimination and hate crimes, proactive government outreach to minority religious groups, and the vigorous defense of both freedom of religion and expression. As we have discussed in the past, the United States supports the full use of your office and moral authority to speak out against intolerance and instances of hate speech where they occur.

The front page report in Daily Nawa-i-Waqt is misleading and based on false rumours that are easily disproven with the smallest amount of research. Considering that the vast majority take their news from Urdu sources, it is essential that the people get fair and accurate information, not hysterical falsehoods and religious exploitation.

Tags: , , , , , ,

5 comments
Leave a comment »

  1. Take, for example, a front page story from the Nawa-i-Waqt newspaper 🙂
    ================
    عارف نظامی برطرف

    علی سلمان
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہو

    سیڑھیاں اترجانے کی اصطلاح سے پاکستان کے صحافتی حلقے بخوبی آگاہ ہیں لیکن یہ تصور ذرا مشکل تھا کہ ادارہ نوائے وقت کے بانی حمید نظامی کے صاحبزادے، دی نیشن کے ایڈیٹر، عارف نظامی بھی ایک روز سیڑھیاں اتر جائیں گے۔

    بھئی سیدھی صحافتی زبان میں بات یہ ہے کہ پاکستان کے موقر انگریزی اخبار ’دی نیشن‘ کے ایڈیٹر عارف نظامی کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔

    ویسے تواخبارات میں ایڈیٹر آتے جاتے رہتے ہیں، برطرفیاں تقرریاں اور استعفے بھی پاکستان کی صحافت میں معمول کی بات ہے لیکن یہ ایک ایسے ایڈیٹر کی برطرفی ہے جس کے بارے میں اس پہلے یہ تاثر تھا کہ وہ اخبار کےمالکوں میں سے ایک ہیں۔

    عارف نظامی کے والد حمید نظامی نے تئیس مارچ سنہ انیس سو چالیس کو عین اس دن لاہور سے نوائے وقت کا پہلا پرچہ شائع کیا تھا جب لاہور کے منٹو پارک میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی۔

    دی نیشن کے مستعفی ہونے والے ڈپٹی ایگزیکٹو ایڈیٹر سرمد بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا استعفی عارف نظامی سے اظہار یک جہتی بھی ہے اور ایک پیشہ ورایڈیٹر کی برطرفی کے طریقہ کار کے خلاف احتجاج بھی ہے
    تو کہا جا سکتا ہے کہ مینار پاکستان اور اخبار نوائے وقت اس یادگار قومی دن کی دو ایسی نشانیاں ہیں جن کا تعلق براہ راست لاہور سے ہے۔

    عارف نظامی اس وقت بچے تھے جب ان کے والد صرف پینتالیس برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ مجید نظامی اپنا الگ اخبار ندائے ملت نکال چکے تھے۔ عارف نظامی کی والدہ نے نوائے وقت کی ادارت سنبھالی اور اپنے کم سن بچوں کے ساتھ اخبار چلانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہیں۔ چند ہی مہینوں میں نوائے وقت کی اشاعت بہت کم رہ گئی تھی۔

    دیور بھابھی میں صلح کے بعد مجید نظامی روزنامہ نوائے وقت کے انتظامی اور ادارتی سربراہ ٹھہرے، بھتیجے عارف نظامی نے ایک عام رپورٹرکی حثیت سے اخبار میں کام کرنا شروع کیا اور سنہ انیس سو چھیاسی میں اس دور کے پنجاب کے واحد نجی انگریزی اخبار ’دی نیشن‘ کی بنیاد رکھ دی۔ پرنٹ لائن پر عارف نظامی کا نام شائع ہوا۔

    باہر والوں کے لیے سب کچھ بظاہر ٹھیک چل رہا تھا۔ مجید نظامی اکثر سب کے سامنے عارف نظامی کو ڈانٹ دیتے لیکن کوئی بھی اسے چچا کی شفقت بھری جھڑکی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا، تاہم معاملہ اس سے کہیں زیادہ سنگین نکلا جب گزشتہ روز ’دی نیشن‘ کی پرنٹ لائن سے پہلی بار عارف نظامی کا نام ہٹا لیا گیا اور ان کی جگہ صرف رمیزہ نظامی کا نام رہ گیا۔

    دی نیشن کے سابق ایڈیٹر عارف نظامی اور موجودہ پرنٹر پبلشر رمیزہ نظامی سے کوشش کے باوجود ٹیلی فون پر رابطہ نہیں ہوسکا البتہ مجید نظامی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ عارف نظامی کی برطرفی کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہے وہ دی نیشن کے محض ملازم تھے اور قواعد کے مطابق ملازم کو برطرف کیا جاسکتا ہے
    نوجوان رمیزہ نظامی نوائے وقت گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر چیف ایڈیٹر مجید نظامی کی لے پالک صاحبزادی اور وقت ٹی وی کی چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں۔

    عارف نظامی پاکستان میں اخبارات کے مدیروں کی ایک تنظیم سی پی این ای کے منتخب صدر ہیں۔

    دی نیشن کے سابق ایڈیٹر عارف نظامی اور موجودہ پرنٹر پبلشر رمیزہ نظامی سے کوشش کے باوجود ٹیلی فون پر رابطہ نہیں ہوسکا البتہ مجید نظامی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ عارف نظامی کی برطرفی کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہے وہ دی نیشن کے محض ملازم تھے اور قواعد کے مطابق ملازم کو برطرف کیا جاسکتا ہے۔

    عارف نظامی نے اپنی برطرفی کے بعد ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ میں ایک پروفیشنل جرنلسٹ ہوں اور جب کسی صحافی کو برطرف کیا جائے تو اسے صفائی کا موقع دیا جاتا ہے لیکن مجھے تو یہی علم نہیں کہ مجھے کس بات کی سزا دی گئی ہے۔

    عارف نظامی کی برطرفی کے بعددی نیشن سے وابستہ درجن بھر کے قریب سنئیر کارکن صحافیوں کے مستعفی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔دی نیشن کے مستعفی ہونے والے ڈپٹی ایگزیکٹو ایڈیٹر سرمد بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا استعفی عارف نظامی سے اظہار یک جہتی بھی ہےاور ایک ایک پیشہ ورایڈیٹر کی برطرفی کے طریقہ کار کے خلاف احتجاج بھی ہے۔

  2. عارف نظامی برطرف

    علی سلمان
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہو

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090908_arif_nizami.shtml

    Wednesday, 9 September, 2009, 23:52 GMT 04:52 PST

  3. Take, for example, a front page story from the Nawa-i-Waqt newspaper 🙂
    ===========

    نظامی خاندان کی عدالتی جنگ شروع

    عبادالحق
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہو

    پاکستان کےسینیئر صحافی اور انگریزی اخبار’ دی نیشن ‘ْْ کے سابق ایڈیٹر عارف نظامی نے دی نیشن پبلیکشنز پرائیوٹ لمیٹڈ کی تحلیل کے لیےعدالت سے رجوع کیا ہے۔

    منگل کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس ضمن میں دائر کی جانے والی درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے دی نیشن پبلیکشنز پرائیوٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو مجید نظامی کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔ عدالت نے جج نے عارف نظامی کی طرف سے دی نیشن میں ریسیور اور لوکل کمیشن کے تقرر کےلیے دائر الگ متفرق درخواست پر بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔

    عارف نظامی نے عابد حسن منٹو اور اعتزاز احسن ایڈووکیٹ کے توسط سے جو درخواست دائر کی ہے اس میں انہوں نے اپنے چچا مجید نظامی کے علاوہ ان کی بیٹی رمیزہ نظامی، نداِ ملت، مجید نظامی ٹرسٹ اور سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کو فریق بنایا ہے۔

    سماعت کے دوران عارف نظامی کے وکلاء نے یہ موقف اختیار کیا کہ دی نیشن پبلیکشنز پرائیوٹ لمیٹڈ ایک شراکت دار کمپنی ہے جس پر پارٹنرشپ کے اصول لاگو ہوتے ہیں جبکہ مجید نظامی کپمنی کو اس کے دستور اور میمورنڈم کے برعکس چلا رہے ہیں ۔

    وکلاء نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ میمورنڈم کے مطابق کمپنی کے ڈائریکٹر یا حصص میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی کوئی نیا ڈائریکٹر مقرر کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے دلائل میں یہ اعتراض کیا کہ کمپنی کے میمورنڈم کے تحت درخواست گزار عارف نظامی کو ایڈیٹر کے عہدے سےالگ نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کے باوجود انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا جو میمورنڈم کی خلاف وزری ہے۔

    خیال رہے کہ عارف نظامی ادارہ نوائے وقت کے بانی حمید نظامی مرحوم کے صاحبزادے ہیں اور انہیں نوائے وقت اور دی نیشن کے گروپ ایڈیٹر اور ان کے چچا مجید نظامی نے تقریباً اڑھائی ماہ قبل دی نیشن اخبار کی ایڈیٹر کے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/11/091124_arif_nizami_notice_zee.shtml

    منگل, 24 نومبر, 2009, 14:08 GMT 19:08 PST

  4. Arif Nizami moves court

    Wednesday, 25 Nov, 2009
    http://www.dawn.com/wps/wcm/connect/dawn-content-library/dawn/the-newspaper/national/arif-nizami-moves-court-519
    LAHORE, Nov 24: Justice Mian Saqib Nisar of the Lahore High Court on Tuesday admitted for hearing a petition that sought winding up of The Nation Publications (Private) Limited and issued notices to respondents for Wednesday (today).

    The respondents included Majid Nizami, chief executive of The Nation Publications (Private) Limited, and Ms Rameezah Nizami.

    Arif Nizami, son of the founder of the Nawa-i-Waqt Group, the late Hameed Nizami, has filed the petition in his capacity of a director and share-holder of The Nation Publications (Private) Limited as well as the founder editor of ‘The Nation’. He is being represented in the case by Barrister Aitzaz Ahsan, Abid Hasan Minto and Uzair Karamat Bhandari.

    Mr Nizami was sacked as the editor of “The Nation” on Sept 7, 2009. It has been argued in the petition that though the company was incorporated as a private limited company, in essence, it was a family concern being managed solely by its members and was in the nature of a partnership.

    Relying on decisions of Supreme Court and the House of Lords of England, counsel submitted that the company was, therefore, subject to the principles for dissolution applicable to partnership concerns.

    The petition levels allegations of acts of omission and commission in violation of the Companies Ordinance, 1984, and the Memorandum & Articles of Association of the publications. Petition also alleged illegal dilution of shareholding, oppression and mismanagement of the company and says Arif Nizami had been illegally ousted from management.—Staff Reporter

  5. Arif sues Majid Nizami for The Nation closure Wednesday, November 25, 2009 http://thenews.jang.com.pk/daily_detail.asp?id=210392

    LAHORE: Arif Nizami, director and former editor of The Nation, filed a petition with the Lahore High Court (LHC) through senior advocates Aitzaz Ahsan and Abid Minto, seeking closure of The Nation Publications (Pvt) Ltd over a feud among the partners.

    It is pertinent to mention here that Arif Nizami is the son of the founder of the Nawa-i-Waqt Group, late Hameed Nizami. He is one of the directors and shareholders of The Nation Publications (Pvt) Limited as well as the founder and former editor of The Nation.

    The petition came up for hearing before Justice Mian Saqib Nisar of the Lahore High Court on Tuesday.

    It may be recalled that Arif Nizami was sacked from office on 7 September 2009 by his uncle Majid Nizami. The petition has been filed against The Nation Publications (Private) Limited and its shareholders, including Majid Nizami, Chief Executive of The Nation Publications (Private) Limited, and his daughter Rameezah Nazami.

    It has been urged in the petition that though the company is incorporated as a private limited entity, in essence, The Nation Publication (Private) Limited, is a family concern being managed solely by family members and is in the nature of a partnership.

    Relying on decisions of the Pakistan Supreme Court and the House of Lords of England, the counsel submitted that the company was, therefore, subject to the principles of dissolution applicable to partnership concerns. It has been further urged that Arif Nizami with the status of a partner has been deliberately, wrongfully and illegally ousted from management of the company affairs, an irreversible state of deadlock exists in the company; and there is complete mistrust and a total lack of confidence among the parties. Thus, it is only just and equitable that the company be wound up.

    The petition levels serious allegations of the acts of omission and commission in violation of the Companies Ordinance, 1984 and the Memorandum & Articles of Association of The Nation Publications (Private) Limited on the part of Majid Nizami.

    Other grounds urged in the petition include illegal dilution of shareholding, oppression and mismanagement of the company. Justice Mian Saqib Nisar was pleased to admit the petition for hearing on Tuesday.

Leave Comment

?>