Bachola Shaheen Sehabi

Feb 4th, 2011 | By | Category: Jang, The News

Bachola Shaheen Sehbai

Despite several requests, we had not intended to address the rumours of a secret Zardari wedding that have been floated around the internet because we felt that these were so obviously attempts to invent a scandal from thin air that they did not warrant even the most basic acknowledgement. Our hand was forced, however, when we opened The News this morning to find that Shaheen Sehbai has changed his profession from psychic to matchmaker.

The rumours appeared on a couple of questionable (at best) blogs and included absolutely no actual evidence of anything except the childish imaginations of the writer named ‘Haroon’. This is even admitted by the writer who admits that “Many media analyst are still trying to find an evidence before they jump into this leak”. Neither ‘Haroon’ nor his gossip colleague Shaheen Sehbai find the need to wait for evidence, however, jumping head first into the rumour without a moment’s thought.

‘Haroon’ then justifies publishing this nonsense by writing, “The fact is none of the parties have denied this leaked news yet”, a curious bit of backwards logic.

Here are some more “facts” of this type:

1. ‘Haroon’ has not denied that he beats his wife.

2. ‘Haroon’ has not denied that he is a drunkard.

3. ‘Haroon’ has not denied that his article is a plant.

Of course, the fact that ‘Haroon’ has not denied these things doesn’t make them true or not true. Actually, it doesn’t mean anything.

There is a Latin phrase, “Semper necessitas probandi incumbit ei qui agit”, which means, “The necessity of proof always lies with the person who lays charges”. In other words, if you are going to make an accusation against someone, it is your responsibility to provide proof. The accused is not obligated to disprove some charge that you have no evidence for. This is common sense. If society operated on the logic of Haroon, everyone would be guilt of everything unless they could prove otherwise. It’s simply ridiculous.

Unfortunately, this basic rule of evidence continues to be ignored by many in our media who prefer to peddle in juicy gossips rather than facts. Indeed facts do not appear to matter to Shaheen Sehbai who saw the gossip and ran to the telephone, placing an overseas call to harass Dr Tanveer Zamani about the rumours. Worst, Shaheen Sehabi was so cheap that he would not even pay for the charges to harass this woman but “called her on her toll free phone” ensuring that she would not only be harassed but then be made to pay for the insult as well!

Upon being harassed by bachola Shaheen Sehbai, Dr Tanveer Zamani replied that she would not comment and had sought a lawyer to deal with the rumour. At this point, most civilized people would leave the poor woman alone. Unfortunately, she had Shaheen Sehbai on the line and he began harassing her even more. When the doctor refused to play his game, Shaheen Sehbai decided says he wondered “whether I had just completed the first interview of Pakistan’s prospective First Lady.”

By comparison, even Daily Express reported that the rumours were baseless and had “been started by sick and dirty minds”.

Daily Express article

This is not only a spectacularly infantile waste of time, it is shameful behaviour by a man who carries the title ‘Group Editor’ at The News. If this is an example of how The News is being edited, is it any wonder there continue to be most ridiculous rumours included in its reporting? It is embarrassing that The News would even agree to publish such nonsense.

Tags: , , , , ,

5 comments
Leave a comment »

  1. […] posted here: Bachola Shaheen Sehabi | Pakistan Media Watch Filed Under: Media Tagged With: even-admitted, evidence-before, gossip, gossip-colleague, leak, […]

  2. اور تلاش جاری ہے۔۔۔۔؟
    تحریر: محمدزمان عادل

    ہر کوئی اسے ڈھونڈ رہا ہے مگر لاکھ کوششوں کے باجوود وہ کسی کو بھی نہیں ملا مجھے بھی ضرورت پڑی اور میں بھی اسے ڈھونڈنے نکل پڑا راستے میں ہر ایک سے پوچھتارہا ‘‘ہر کوئی یہی جواب دیتارہا،نہیں ملا ابھی نہیں ملا۔ ڈھونڈتے ہیں شاید کہیں مل جائے، مجھ سے بھی پوچھا گیا میں نے بھی نفی میں جواب دیا۔ کئی لوگوں سے میں نے بھی پوچھا وہ بھی نہیں ملا، نہیں ملا کہہ کر آگے بڑھتے گئے، کوئی مشرق کو چلا کوئی مغرب کو ۔۔۔بس ہر کوئی دوڑتا نظرآیا مگر نہیں ملا، نہیں ملا کی رٹ لگاتے دوڑتے رہے۔ دوڑتے دوڑتے میں پر ہجوم بازار میں پہنچا ،ہر مارکیٹ ،ہر دوکان چھان ماری مگر کسی کے پاس بھی نہیں ملا، مجھ سے آگے پیچھے بھی آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہا، مگر خالی ہاتھ لوٹتے ہر دوکان میں نرخنامے سجائے گئے تھے۔ مگر سب کے پاس اس چیز کی کمی تھی، میں نے بہت کوشش کی کہ پیسے دیکر خرید لوں مگر ایسا لگ رہا تھا ،کہ کسی ذخیرہ اندوز کے ہاتھوں چڑھ گیا تھا۔ آبادی سے نکل کر ویرانوں میں گئے، جنگلات کا رخ کیا تو محکمہ جنگلات والے ملے۔ خیال تھا کہ گنجان آباد علاقوں اوربھیڑ چال سے نکل کر شاید یہاں چھپ کر بیٹھا ہو ،لیکن ان کے پاس بھی نہیں ملا،او ر وہ بے چارے بھی سب اپنے لئے دوڑتے رہے، مگر جس چیز کی ہمیں ضرورت تھی، وہ چیز نہیں ملی۔ جنگل سے نکل کر ہم نے پھر شہر کا رخ کیا، گھومتے پھرتے تھک گئے ،مگر کہیں نہ ملا۔ دوڑتے دوڑتے کسی نے کہا بھئی کہاں جا رہے ہو؟ میں نے عرض کیا اسی کو ڈھونڈنے جا رہا ہوں، بولا میں نے سنا ہے کہ واپڈا کے دفتر میں ملتا ہے ،چلو چل کر وہاں دیکھ لیتے ہیں۔ سو چل پڑے مگر وہاں بھی جا کر الٹا اوور بلنگ او رجرمانوں کے چکروں میں پھنس گئے۔جس سے بھی اس کے بارے میں پوچھتے رہے، وہ اپنی فریاد سناتا ،وہاں سے نکلتے نکلتے شام ہو گئی، اسی سوچ و فکر میں گم تھاکہ گھر جا کر بیگم کو کیا جواب دوں گا کہ تمہیں آج بھی وہ نہ ملا، مگر گھر پہنچا تو لوڈ شیڈنگ تھی، اورہر کوئی گرمی کی شدت سے نڈھال مچھروں کو کو س رہا تھا، چھپکے سے چارپائی کھینچی اور لیٹ گیا صبح آنکھ کھلی تو سوچا ٹیلی فون والوں سے شکایت کر لوں شاید کہیں فون کرکے وہ برآمد کر لیں مگر کیا کرتے وہ بے چارے بھی مجبور تھے۔ وہاں جاکر الٹا لینے کے دینے پڑ گئے انہوں نے لائن رینٹ اووربلنگ کے چکر میں ایسا پھنسایا کہ کنکشن کٹوانے پر مجبور ہوگیا۔ کنکشن کٹوانے کا فیصلہ توخیر میں نے احتجاجاً کیا تھا لیکن کسی کو ذرا برابر بھی فرق نہ پڑا اور نہ ہی کسی نے میری داد رسی کی۔ مجبوراً مجھے محکمہ تعلیم کے دفتر میں جانا پڑا مگر کیا کرتا وہاں بھی اساتذہ کی لمبی لائن کھڑی اپنی ٹی اے بلوں اور تبادلوں کا رونا رو رہی تھی ،میری طرف کسی نے دھیان ہی نہ دیا کھڑے کھڑے تھک گیا، واپس مڑنے ہی والا تھا کہ ایک استاد بولا بھئی کیا کر رہے ہو ؟یہاں میں میں اسے۔۔۔ ڈھونڈنے آیا ہوں میں نے کہا ،کسے آہا اسے تو ہم کیا تمہیں چنے بیچنے والے لگتے ہیں، ہم بھی تو صبح سے آکر اسی کا ۔۔۔۔۔۔ سو وہاں سے بھی چل پڑا گھر آیا تو بچہ بولا میرے ساتھ سکول جانا ہے، استاد نے کہا ہے کہ باپ کو لے آنا تمہیں داخل کروانا ہے ٹھیکہے بیٹا کل جائیں گے۔اچھا پانی دے دو ۔۔۔۔۔۔ تمہیں باہر کہیں پانی نہیں ملا ۔۔۔بیگم بولی ۔۔۔اس کی تلاش میں کیا نکلے ہو کہ پانی بھی باہر سے پی کر نہیں آسکتے ،کم از کم بچوں کو کھیلنے دیا کرو بھلا یہ بھی کوئی عمر ہے ان سے کام کروانے کا ،ایک طرف تو کتابیں کاپیاں اور داخلہ فیس پورا کرکے نہیں دے سکتے جبکہ دوسری طرف ان سے کام بھی لیتے ہو تم نے اس دن اس پروگرام میں تقریر نہیں سنی تھی کہ بچوں سے مشقت نہیں لیتے۔ سو خاموشی سے اٹھ کر خود ہی گھڑے سے جام اٹھایا پانی ڈالنے لگا گھڑا مجھ سے بھی پیاسا نکلا سارا پانی پی چکا تھا۔ شاید سارے گھر والے مجھ سے اس بات کا بدلہ لے رہے تھے کہ تم اسے آج تک نہیں لے آئے۔۔۔ نلکے پر گیا مگر ہوا کے سوا کچھ نہ نکلا بیگم بولی کتنے دن ہو گئے ہیں نلکے میں پانی نہیں آرہا ہے۔ اس کا کچھ اتہ پتہ کرلو، گھڑی دیکھی ابھی چھٹی میں تین گھنٹے باقی تھے سائیکل لی سیدھا پبلک ہیلتھ کے ٹیوب ویل پر پہنچا چوکیدار بیٹھا آپریٹر چھٹی پر تھا بجلی بل کی وجہ سے کٹ چکی ،ہے کئی دن ہو گئے محکمہ والوں کو بھی اطلاع دی ہے مگر تا حال کوئی نہیں آیا وہاں سے نکلا تو سیدھا پبلک ہیلتھ کے دفتر گیا مگر وہاں بھی دن کے بارہ بجے تالے لگے ہوئے تھے۔ واپس لوٹا راستے میں اسے تلاش کرتا رہا مگر کہیں نظر نہیں آیا۔ اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک ہار چکا تھا اسلئے گھر میں ہی رہا۔ صبح گھر سے بچے کو لے کر سکول گیا گھنٹہ گزرا دو گزرے کوئی نہیں آیا آخر کار اساتذہ آتے گئے اور گپ شپ میں مشغول ہوتے رہے بچے کھیلتے رہے کودتے رہے ایک دوسرے کو مارتے رہے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ،کئی بار میں نے بات کرنا چاہا، مگر مجھے بیٹھنے کو کہا گیا ،گھنٹہ ڈیڑھ بعد ان استادوں سے ( استاد کا نام دینا تو استاد کی توہین ہے ) اٹھا اور کہنے لگا ہاں چچا کیا ہے ؟میں نے بولا بچے کو داخل کروانا ہے۔ تو نکالو پیسے ’’ میں تو پیسے نہیں لایا ‘‘ نہیں لایا تو بچے کو کیوں لائے ہو؟ ہم کوئی تمہارے نوکرتو نہیں کہ سارا دن مغز کپائی بھی کریں اور ۔۔۔ دیکھو تمہارے بچوں کی خاطر ہم یہاں بیٹھے ہیں ،جناب داخلہ تو معاف ہو چکا ہے اب آپ پیسے کیوں لے رہے ہیں‘‘؟ معاف ہے تو جاؤ وزیر اعلیٰ کے پاس داخل کراؤ ہم نے تو معاف نہیں کیا۔۔۔میں نے کہا ماسٹر جی میں ھیڈ ماسٹر صاحب سے بات کرنا چاہتا ہوں تو غصے ہو کر بولا ارے اسے تنگ نہیں کرنا اس نے نو ماہ بعد FA کا امتحان دینا ہے وہ اندر بیٹھ کر تیاری کررہا ہے ،تو پھر مجھے اپنے محلے کے قاری صاحب سے ملوادو۔۔۔ وہوہ تو کسی کے چہلم پر گئے ہوئے ہیں چار دن بعد آئیں گے، اور پھر وہاں سے سیدھا چالیس دنوں کے لئے اللہ کی راہ میں جائیں گے تم بس اس کا انتظار کرو یا پیسے لے آؤ ہمارا وقت ضائع مت کرو ۔۔۔ اور ماسٹر صاحب شطرنج کھیلنے بیٹھ گئے۔ اس دوران میں نے آنکھوں آنکھوں میں اسے بھی تلاش کیا مگر معمارِ قوم کی اس جھرمٹ میں جہاں قومیں بنتی ہیں سرمایہ قوم پھلتے پھولتے ہیں وہ وہاں بھی نہیں ملا۔ کسی نے راستے میں مشورہ دیا کہ مسجدجا کر لاؤڈ سپیکر پر اعلان کرتے ہیں شاید خود سن کر آجائے ابھی اعلان کرنے ہی والے تھے کہ مولوی صاحب آگئے کیا ہے کس چیز کا اعلان۔۔۔جی اس کو ڈھونڈنا ہے اس لئے۔۔۔ نکلو نکلو یہ مسجد ہے اللہ کا گھر یہاں پر ایسے اعلانات نہ کرنا۔۔۔ لیکن مولوی صاحب‘‘ نکلتے ہو کہ سب کو بتادوں کہ یہ فرقہ واریت پھیلا رہے ہیں ،فتوی لگادوں گا پھر نہ کہنا ہاں ۔۔۔بس نکل آئے مولوی صاحب کی بھی سن آئے۔۔۔سیدھا اخبار کے دفتر گئے تا کہ اس کے بارے میں اشتہار دیا جائے وہاں پر ایک بھاری بھرکم شخص سے ملاقات کروایا گیا جو شاید منیجر تھے ،اس نے بیٹھنے کو کہا اور حد درجہ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے چائے کا حکم دیکر پاس بیٹھے ہوئے دوسرے شخص سے مخاطب ہوکر کہنے لگا بس یا ر 100 کاپیاں تیار کرنی ہے زیادہ نہیں ۔۔۔ لیکن جناب مارکیٹ۔۔۔چھوڑ مارکیٹ بس سر کاری دفاتر میں فری تقسیم کرنے کے لئے ٹھیک ہے‘‘ جی وہ اٹھ کر چلاگیا۔اتنے میں ایک اور شخص آیا منیجر صاحبوہ ABC کے لئے جو پروفارمے پر کرنے ہیں اس میں سرکولیشن کتنی لکھنی ہے50,000ہزار لکھ دینا۔۔۔ تب تک ہم چائے بھی پی چکے تھے، وہ ہمیں لے کر مالک کے کمرے میں لے گیا جو کمرے میں پہلے ہی کسی دوسرے شخص (شاید ایڈیٹر تھا)سے لڑ رہاتھا یہ خبر نہیں لگانی یہ سپاہی کے خلاف ہے لیکن جناب اس نے زیادتی کی ہے جس کے ثبوت بھی ہیں میں نے کہا نا یہ نہیں لگانی یہ اخبار ہم کسی کی خدمت اور ترجمانی کے لئے نہیں بلکہ تمھیں پتہ ہے کس چیز کے لئے نکال رہے ہیں ان کے بڑوں کے ساتھ ہماری دوستی ہے اور آج جو کچھ بھی ہم ہیں ان کہ مہربانیوں کا نتیجہ ہے سمجھے‘‘ لیکن جناب یہ تو صحافت نہ ہوئی یہ توصحافت کی توہین ہے وہ ناراضگی کی عالم میں چلا گیا۔میں نے ریاست کے اس اہم ستون کے دعوے داروں کے پاس بھی اسے تلاش کیا لیکن وہ ملنے کا نام کب لے رہا تھا۔ اس کے بعدمیں اپنے علاقے میں ایک این جی او کے دفتر گیا جو خواتین کے حقوق اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے کام کررہی ہے وہا ں جاکر میرا سامنا ایک خاتون نما ڈیکوریشن پیس سے ہوا جوخاتون کم اور …… زیادہ لگ رہی تھی جس کی اخلا ق ومخصوص گفتار انداز نے ایک بار مجھ سے بھی دنیا ومافیھا بھلانے کی کوشش کی‘‘ جس پر مجھے بہت ہی دکھ ہوا کہ جو لوگ خواتین کی حقوق کے لئے نعرے بازی کررہے ہیں ان کا اپنا کیا حال ہے۔بہر حال مجھے اس کے باس سے ملنے کا اتفاق ہوا جو اپنے کمرے میں ایک بچے سے مالش کرواکر ساتھ ساتھ کوستا بھی رہا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ واپس گھر آیا تو اپنا ایک پڑوسی بیٹھا انتظار کر رہا تھا کہنے لگا چکو چلو تھانے چلتے ہیں اُسے پولیس گرفتار کر کے لے گئی ہے۔ میں خوشی سے پھولے نہ سماں سکا اور زورزور سے ہنسنے لگا کہ شکر ہے مل تو گیا حوالات میں سہی شکر ہے مل توگیا‘‘پڑوسی بولا چکو تم کس چیز کی خوشی منا رہے ہو میرے گھر میں ماتم ہے اور تم خوش ہو رہے ہو میں نے بولا بھائی ماتم کس چیز کا جس کوڈھونڈنے ہم روزانہ دوڑتے ہیں اسے پولیس گرفتار کر کے لے گئی ہے تو کیا ہوا مل تو گیا ناں ۔۔۔ا وہو نہیں چکو پویس تو میرے بیٹے کو گرفتار کر کی لے گئی ہے کیا۔؟ تیرے بیٹے کو گرفتار کیا ہے پر کیوں ؟ اس کا تو مجھے بھی پتہ نہیں البتہ اس کی دوستوں نے کہا کہ پولیس والے کہہ رہے تھے کہ اس کی شکل چوروں جیسی ہے اور علاقے میں جو چوریاں ہو رہی ہیں یہی کر رہا ہے۔ یار تیرا بیٹا تو بہت شریف ہے پر ۔۔۔۔۔۔ چلو ملک صاحب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ اسلام علیکم ملک صاحب چکو یہ کوئی آنے کا وقت ہے ملک جی وہ اس کے بیٹے ۔۔۔۔۔۔ کیا ہوگیا ہے جناب پولیس لے گئی ۔۔۔۔۔۔ تو خوشیاں مناؤ ایک تو کم ہو گیا ویسے بھی تم لوگ روٹی تو پوری کر نہیں سکتے اس کا بوجھ تو ہلکا ہو گیا۔ جناب یہ تو ٹھیک ہے مگر بیٹا ہے کیسے اس کے بغیر جی سکتے ہیں وہ کم اصلو مجھے بھی تو دیکھو پانچ بیٹے دوبئی گئے ہوئے ہیں میں بھی تو اکیلا برداشت کر رہا ہوں۔۔۔پر ملک صاحب جان چھوڑو بھئی ملک صاحب کی جاؤ مجھے حقہ پینے دو ہم منہ لٹکا کر واپس مڑ آئے کئی بار میں نے اس کی حویلی میں ادھر ادھر نظر دوڑائی مگر اتنے امیر آدمی کی حویلی میں بھی وہ نہیں ملا بہت دکھ کی بات ہے میں پڑوسی سے کہنے لگا دیکھو چکو میں بھی تو ڈھونڈ رہا ہوں بلکہ سارا گاؤں ، شہر اور معاشرہ ڈھونڈ رہا ہے اگر کہیں ملا تو ہمیں بھی پتہ چل جائے فی الحال تھانے جا کر بیٹے کو چھڑانا ہے۔ آہ ہاں یار یہ تو بہت ہی ضروری ہے۔ تھانے پہنچے تو سنتری سے سامنا ہوا منت ترلوں پر کام نہ چلا تو دس روپے کا نوٹ دے کر اندر گئے تھانیدار جی کو جیسے پہلے ہی معلوم تھا کہ ہم کیسے آئے ہیں دیکھو چچا یہ جو تمہارا لڑکا ہے یہ بہت خطرناک مجرم ہے علاقے میں 45چوریاں 32راہزنی اور 63ڈکیتیاں ہوئی ہیں، شکل سے لگ رہا ہے اس نے کئے ہیں جبکہ 20،25کے قریب قتل مقاتلے بھی شاید اس کے ذمے پڑ سکتے ہیں انتہائی دہشت پھیلا رکھی ہے اس نے علاقے میں ۔۔۔ عوام میں شدید خوف و ہراس پھیلایا ہوا ہے یہ کیا سمجھتا ہے کہ پولیس اتنی نکمی ہے ہم عوام کے محافظ ہیں آخر ہم نے ہی ان کی خدمت کرنی ہے مگر ہمارا لڑکا تو سیدھا سادہ ہے ہر باپ یہی کہتا ہے میری نظر سے دیکھو تو اس بیٹے سے ڈر لگے گا ڈر تھانیدار بولا مگر جناب آپ کے پاس تو کوئی ثبوت بھی نہیں ثبوت یہ خود کسی ثبوت سے کم ہے کیا ہفتہ بعد دیکھو عدالت میں اسے پیش کرکے ثبوت بھی دکھائیں گے مگر صاحب کل کیوں نہیں کل تو میں نے شاباشی (چھٹی) پر جانا ہے۔ پرسوں حوالدار نے جانا ہے ترسوں دو سپاہیوں نے جانا ہے۔ بس ہفتہ بعد اس کو لے جانا ہے۔ ابھی ملنے کی بھی اجازت نہیں۔ صاحب اسے چھوڑ دیں جس دن عدالت جانا ہوا ہم اسے لے آئیں گے چلو کچھ کرتے ہیں مگر ایک دن پہلے لانا ہوگا اور ہاں جیب کی تلاشی لیتے ہوئے تم دونوں کے پاس تو کوئی چیز بھی نہیں پہلے اور ۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔ میں سمجھ گیا میرا پڑوسی بولا چکو تو یہاں ٹھہرمیں ابھی گھر سے ہوکر آرہا ہوں آدھا گھنٹہ انتظارکے بعد پڑوسی واپس آیا تو تھانیدار سے کسر پسر کرکے ہاتھ ملا کر آیا اتنے میں اس کا بیٹا بھی نکل چکا تھا۔اس دوران بھی میں نے اسے تھانے میں کافی تلاش کیا مگر نہیں ملا حالانکہ یہ جگہ تو عوام کے محافظوں کی ہے قوم کی خدمت کرنا ان کا مشن ہے۔ اگر وہ یہاں نہ ملا تو پھر کہاں ملے گا باپ بیٹا گھر جاتے ہوئے باتیں کر رہے تھے اور میں اپنے سوچوں میں گم سم تھا کہ آخر وہ کہاں ملے گا۔ کسی سرکاری محکمے میں نہیں درسگاہ میں نہیں ملا۔ بازاروں میں،دوکانوں میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملا۔ 6دن گزرنے کے بعد پڑوسی کے بیٹے کو تھانے لے کر چوڑ آئے صبح اس کا چالان ہونا تھا اس لئے ہم دوبارہ صبح صبح تھانے گئے وہاں سے چالان بنتے بنتے تین گھنٹے گزر گئے اور وہ بھی تب جب میرے پڑوسی نے چار پانچ اہلکاروں سے ہاتھ ملایا ہاتھ ملانے کا فائدہ کیا تھا یہ تو بعد میں پڑوسی نے بتایا کیوں کہ ہر ایک سو سو جبکہ بعض کو پانچ سو کا نوٹ تھمانا تھا۔ اللہ اللہ کرکے کچہری پہنچ گئے۔ کچہری اللہ بچائے اس کی مست مست نظروں سے فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے ؟ کچہری وہ جگہ ہے جہاں بس کیا کہوں ۔۔۔۔۔۔ بہر حال ہزار بارہ سو تقسیم کرکے کاغذات بن گئے اور عدالت میں آگے کر دیا بحث شروع ہوئی تو پولیس نے علاقے میں تمام جرائم کا بادشاہ پڑوسی کے بیٹے کو قرار دیا۔ مجھے اس وقت انتہائی تعجب ہوا کہ اس نے خود ہی اقبال جرم کرلیا کہ ہاں پولیس والے صحیح کہہ رہے ہیں سارے جرم میں نے ہی کئے ہیں اور میں نے علاقے میں دہشت پھیلا رکھی ہے۔ ہم اور ہمارے وکیل کئی بار بول پڑے کہ اسے مار ا گیا ہے اس سے زبردستی یہ بیان کروایا گیا ہے مگر ہماری نہ چلی اسے سزا ہو گئی وہ جیل چلا گیا چکو میرے بیٹے کو جیل ہو گئی پڑوسی نے روتے ہوئے مجھے گلے سے لگایا میں کیا کرتا ہمدردی جتائی اور چلنے کو کہا کچہریوں میں چلتے پھرتے مجھے کہیں بھی وہ نہ ملا اس کے باوجود کہ عدالتیں اور کچہری میں ہر کوئی دوڑ کر آتا ہے کیوں کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں تھک ہار کر بندہ آتا ہے اور اپنے مسائل حل کرکے جاتا ہے اور یہی اس کا آخری ٹھکانہ بھی ہے مگر ہماری طرح سینکڑوں روزانہ آکر بے نوا چلے جاتے اور اس کا دیدار کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا تھا۔میں یہی سوچتا رہا کہ اسی اثناء میں پڑوسی ایک دم چیخا اور گر کر تڑپنے لگا میں نے نز دیک ہی ایک ٹیکسی والے کو رکنے کااشارہ کیا اور ہسپتال جانے کو کہا تھوڑی دیر میں ہم ہسپتال پہنچ گئے ٹیکسی والے کو پیسے دینے چاہے تو کرایہ سن کر حیران ہو گیا ۔ چند قدم کا تو راستہ ہے تم اتنے پیسے۔۔۔ارے چاچا نکال پیسے، سلطان راہی کی طرح بھڑ ک مارنے لگا ! نہیں میں تو اتنے نہیں دے سکتا ۔نوبت تلخ کلامی تک پہنچ آئی، تو ایک ٹریفک والا نمودار ہوا میں سمجھا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔لیکن ٹیکسی والے نے مجھ سے پہل کرکے دس کانوٹ ٹریفک اہلکار کے ہاتھ میں تھما کر فریاد شروع کی، جیسے اس جہاں کا سب سے ظالم میں ہی ہوں اور ٹریفک اہلکار بھی شایداس کا رشتہ دار نکلا، کہنے لگا اوئے چاچے کیوں بے چارے کی مزدوری نہیں دیتا ۔لیکن بیٹا یہ بہت زیادہ لے رہا ہے اور اس کے پاس کوئی کرایہ نامہ بھی نہیں ۔تو چھوڑ چاچے کرایہ نامہ کو کون پوچھتا ہے ہم ہیں ناں۔چل نکال پیسے ورنہ پرچہ دیدوں گا ۔بھلا مجھے کیوں پرچہ دوگے زیادتی وہ کررہا ہے اور۔۔۔۔ارے ہم کسی کو بھی کسی بھی وقت کسی بھی وجہ سے پرچہ دے سکتے ہیں پھر نہ کہنا وارننگ نہیں ملی۔۔۔آخر پیسے دینے پڑے کیونکہ نہ تو کرایہ کم ہوسکتا تھا جبکہ دوسری طرف مریض درد کی شدت سے تڑپ رہا تھا ۔اللہ کا شکر ادا کیا کہ کسی نے تو ہم غریبوں کے لئے سر کاری ہسپتال بنایا ہے ورنہ اس وقت کہاں جاتے۔۔۔او پی ڈی پہنچا ۔۔۔ارے اپنی بھاری کانتظار کر ۔۔۔۔ایک آواز بھڑ بھڑائی ۔لیکن اس مریض کو بہت تکلیف ہے یہ تودرد کی شدت سے مر رہا ہے۔ چل پرے ہو یہاں روزانہ درجنوں مرتے ہیں ۔مجبورا قطار میں کھڑا ہونا پڑا ۔رشتہ دار اور سفارشی وغیرہ ختم ہوئے تو ہماری بھاری بھی آئی۔مریض ڈاکٹر کو دکھایا۔ ایکسرے کراؤ۔فلاں ٹسٹ کراؤ ،فلاں کراؤ، احکامات جاری ہوئے۔لیبارٹری گیا ،ٹیکنیشن گپ شپ میں مصروف ،جی ٹسٹ کروانا ہے۔۔ ۔چاچا مشینیں تو خراب ہیں آپ ایسا کریں کہ باہر۔۔۔چلومیں ساتھ چلتا ہوں میرا رشتہ دار ہے پیسے کم لے گا۔ لیکن سر کاری لیبارٹری۔۔۔۔قہقہ لگاتے ہوئے ارے چاچا کیا پو چھتے ہو ،، طوائف گری ہے تماش بینوں میں ،، چل پڑے باہر سے ایکسرے اور دیگر ٹسٹ کروالئے پیسوں کا کیا پوچھنا بسدیتے رہے ۔اوہنوں ڈاکٹر نے ایکسرے چیک کرتے ہوئے ایک نرس کو بولا۔ چا چا کو سمجھاؤ! یہ کچھ میڈیکل ریپ آئے ہیں میں انہیں ذرا فارغ کرلوں ۔ٹھیک ہے سر ۔۔۔تو چاچا آپ ایسا کریں کہ ابھی تو۔۔۔بہرکیف ابھی میں ایک انجکشن لگا دیتی ہوں اور آپ اسے شام کو اس جگہ پہنچا دیں ایک کارڈ تھماتے ہوئے ۔لیکن ! دیکھو چاچا یہاں کچھ نہیں ہوگا اس کاآپریشن کرنا ہے اور یہاں پر ہسپتال میں مریضوں کا رش بھی زیادہ ہے آپ کی بھاری بھی نہیں آئے گی او ر سرجری کاسامان بھی صحیح نہیں ہے جبکہ آپ کے مریض کی جان کو خطرہ ہے۔۔۔اور ہاں جاتے ہوئے سامنے والے دکان سے یہ دوائیاں لیتے جانا، میرا بتانا رعایت کردیگا کیونکہ وہ میرا ۔۔۔۔بس صرف میرا بتانا چاچا ۔سو چل پڑا ۔اس دوران میں اسے بھی مسلسل تلاش کرتا رہا ،کہ شاید علاج کے لئے یہاں آیا ہو اور کسی وارڈ میں داخل ہو لیکن وارڈ میں جانے کے لئے بھی کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں یہ تو آنے والے کو پتہ چلتا ہے اور جو حالت وارڈ کی ہو تی ہے اس میں مریض تو کیا صحت مند بھی بیمار ہوجاتے ہیں ۔بہر حال وہ مسیحا ؤوں کی اس نگری میں بھی نہ ملا۔شام مریض کو لیکر نرس کے بتائے ہوئے پتہ پر پہنچا، تو مریضوں کی ایک لمبی چھوڑی لائن لگی ہوئی تھی جس میں زیادہ تر جانے پہچانے ۔۔۔ہاں یا د آیا انہیں میں نے ہسپتال میں دیکھاتھا میرے ساتھ ساتھ مزے لیتے رہے سر کاری وسائل کے ۔۔۔۔ڈاکٹر نے اپنی فیس کھری کی، اور دوئیاں لکھ کر دوبارہ آنے کو کہا ۔پڑوسی کو گھر چھوڑنے کے بعد اپنے گھر کی راہ لی ۔ گھر پہنچابیگم کو سارا ماجرا بھی سنایا۔۔۔مگر اس کے انتظار میں بیٹھی بیٹھی وہ بے چاری بھی تھک ہار چکی تھی۔ کیوں کہ صرف میں نہیں بلکہ وہ بھی کئی بار اسے ڈھونڈنے اڑوس پڑوس میں نکلی تھی اور اب تو اسے بھی اندازہ ہو چکاتھا کہ اسے ڈھونڈنے میں ناکامی کا ذمہ دار میں نہیں بلکہ وہ ہے ہی نہیں۔ اور جب بھی ملا تو پورے عالم کو خبر ہو جائے گا‘‘کئی دن گزر گئے مہینے گزرتے رہے سالوں پہ سال آتے گئے۔جنرل ضیا ء نے آکر اسلام کا نعرہ بلند کیا تو میری طرح لا کھوں لو گ اس امید میں تھے کہ اب حالات سدھر جائیں گے لیکن گیارہ سالوں میں مسلسل تلاش کے باوجود بھی وہ نہ ملا اس طرح پے در پے بے نظیر اور نواز شریف کے دور اقتدار کا مزہ بھی چکا لیکن بے فائدہ اور جب مشرف نے سات نکاتی ایجنڈا پیش کیا تو پھر بھی ہم بے چارے آس لگا کر بیٹھ گئے اسی طرح سرحد میں مولویوں کی حکومت بھی آئی جو شرعی نظام کی نفاذ کا وعدے کے بل بوتے پر آئی تھی‘‘ لیکن وہ ہمیں کسی کے دور حکومت میں بھی نہیں ملا۔میں بھی کوشش میں ہوں پڑوس بھی ملک کا ہر فرد خصوصاً غریب طبقہ تو اس کی تلاش میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ آپ تو صحافی ہیں آپ بھی لکھیں شاید پڑھ کر آجائے چچا چکو نے مجھے کہا میں نے وعدہ کیا اور آج پورا کیا کیوں کہ ہمارا کام ہی لکھنا ہے۔ قارئین !کرام ہم بھی ڈھونڈتے ہیں آپ بھی ڈھونڈیں اگر کہیں بے چارہ انصاف ملا تو ہمیں آگاہ کیجئے گا تاکہ چچا چکو اور اس جیسے لاکھوں کی داد رسی ہو سکے۔

    MUHAMMAD ZAMAN ADIL
    ………

    Chairman: WRITER HANDS
    Editor In-chief : Daily “MANZAR-E-AAM” Peshawar
    Monthly “KARAH MAR ” Peshawar
    Weekly NewsP “BADLON” Mardan
    President: Association of Radio Journalists
    Contact: 0300-5727589
    …………
    Head Office:
    Par Jalsiwal Zaman Abad Bakhshali,PO
    Box No 56 GPO Mardan K.P.K Pakistan
    Phone: 0937-771474
    http://www.facebook.com/WriterHands
    writerhands@yahoo.com

    Regional Office:
    6/29 Bilor Plaza Sadar Bazar
    PO Box No 1174 GPO Peshawar Cantt:
    Phone: 091-5526845
    http://www.writerhands.blog.com
    writerhands@gmail.com

  3. Jang Group quotes “The New York Times” for Islamic Revolution! But?
    http://chagataikhan.blogspot.com/2011/02/jang-group-new-york-times-for-islamic.html

  4. Wedding Or Not, The Jang Group Gets Served Saturday, February 5, 2011 http://cafepyala.blogspot.com/2011/02/wedding-or-not-jang-group-gets-served.html

  5. After all the financial corruption allegations failed to remove the govt, such things are being orchestrated by the fiction writer Shaheen Sehbai, Ansar Abbasi and Saleh Zaafir to attack the president’s personal life. It is in sheer desperation. If people remember, in 1996 immediately after Murtaza Bhutto’s death, there were rumors that Asif Zardari has married Brig. Aslam Qureshi’s daughter. Brig Qureshi was a Secretary Commerce then. Now something of a personal experience. I have talked to this zamani lady, quite a nut case she is. I talked with her in 2009 December. She was desperate to somehow get her message across to the president. She was also campaigning for removal of Hussain Haqqani as ambassador and self appointment. I feel sad that public are so gullible that they accept anything and everything.

Leave Comment

?>