پھر وھی بات ” مبشر لقمان کے ساتھ “

Jul 6th, 2011 | By | Category: Blogs, Dunya, اردو

مبشر لقمان صاحب کے کل رات کے پروگرام کو دیکھنے کے باد اس بات کا انداذہ ھوتا ھے کہ شاید لقمان صاحب پروگرام سے پھلے اپنا ھوم ورک کرنا بھول گئے۔  لقمان صاحب نے پھر وھی سات ھزار ویزاز والا سوال کیا جس کا جواب کئ بار دیا جا چکا ھے۔ اس کے الاوہ لقمان صاحب کی بات چیت سے کچھ یوں لگ رھا تھا جیسے وہ کسی وجھ کے تحت جان بوجھ کر پرانی خبروں پر چٹ پٹا مصالحہ لگا کر حاظرین کو پیش کر رھے ھیں۔

سب سے پھلے تو اس بات کی وضاحت کر دی جائے کہ نجم سیٹھی صاحب نے اپنے پروگرام “آپس کی بات“ میں امریکی ویزاز کے حوالے سے تمام سوالات کا بخوبی جواب دیا تھا اور سب تحفظات کو دور کر دیا تھا- اسی پروگرام کی ایک کلپ ملاحظہ فرمایں

 

دوم، پاکستان میڈیا واچ نے بھی اسی اشو کے حوالے سے ایک طویل مضمون چھاپا تھا جس میں باقاعدہ اعدادوشمار پیش کیے گئے۔اور اس بات کی کافی گھری وضاحت کی گئ کے کوئ بھی ویزا اسلام آباد سے اجازت کے بغیر نھیں دیا گیا۔واشنگٹن ڈی سی میں موجود پاکستانی ایمبسی کے فراھم کردہ حقائق ان تمام غلط فھمیوں کو بہت پھلے ھی دور کر چکے ھیں جن کا تذکرہ لقمان صاحب کر رھے ھیں۔ اسی پریس کانفرنس کی ایک کلپ ایک بار پھر ملاحظہ فرمایں

 

پروگرام کے آخر میں مبشر لقمان صاحب امریکہ میں موجود پاکستانی سفیر حسین حقانی پر یہ بھی بلا ثبوت الزام لگاتے ھیں کہ وہ مستقل طور پر امریکہ میں رھائش پزیر ھیں اور پاکستان کے “دشمن“ملک یعنی امریکہ کا ساتھ دے رھے ھیں۔ شاید لقمان صاحب کو دوشت اور دشمن میں اب بھی فرق نظر نھیں آتا۔

دراصل اگر بات کی تہ تک جایا جاے تو اس بات کا پتا چلتا ھے کے دنیا ٹی وی کی ایک اور مشھور اینکر مھر بخاری بھی اسی طرح کی غلط فھمیوں کو سنسنی خیز خبروں کا زوپ دے کر اپنے پروگرام کی ریٹنگز بڑھاتی ھیں۔ ضیا احمد صاحب اپنے ایک مضمون میں میں یھان تک لکھتے ھیں کے پنجاب گورنر سلمان تاثیر کا خون ان صاحبہ کے سر پر ھے۔ مھر بخاری جن کو اپنی اسی رپورٹنگ کی وجہ سے سمئا ٹی وی سے فارغ کر دیا گیا تھا آج دنیا ٹی وی پر اوربھی بھاری تنخواہ وصول کر رھی ھیں۔

اگر ان تمام باتوں پر غور کیا جائے تو ھمیں دنیا ٹی وی کی رپورٹنگ میں ایک کافی بڑا نقص نظر آتا ھے اور وہ یے ھے کہ دنیا ٹی وی چینل صرف اپنی ریٹنگز کی خاطر عوام کے جزبات سے کھیل رھا ھے اور بلا ثبوت لوگوں پر الزام تراشی میں مصروف ھے۔

Tags: , , , , ,

Leave Comment

?>