انصار عباسی کی بے دلیل منطق اور تنقید

Oct 13th, 2011 | By | Category: Jang, Uncategorized, Urdu Media, اردو

پاکستان میڈیا واچ اگرچہ انصار عباسی کا کالم انگریزی زبان میں چھاپ چکا ھے لیکن پھر بھی ھماری ٹیم نے اردو میں پوسٹ کرنا اور بھی مناسب سمجھا تاکہ اردو قارین بھی اچھی طرح سچائی سے واقف ھو سکیں۔

انصار عباسی اپنے جنگ کے کالم میں سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی انسداد دھشت گردی عدالت کی سزا کو عدالت کی ایک کوتاھی بیان کرتے ھیں۔ جج کے فیصلے کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ھوئے وہ فرماتے ھیں کہ عدالت نے سب سے ضروری چیز کو نظر انداز کر دیا۔ وہ ضروری چیز یا فیکٹر بقول انصار عباسی حکومت کی بے نیازی ھے۔ انصار عباسی کا زیر بحث کالم نیچے ملاحضہ کیجیے۔

انصار عباسی اپنے کالم میں اس کیس کو کچھ یوں ظاھر کرتے ھیں کے جیسے اگر حکومت اس قدر بے نیاز نا ھوتی اور سلمان تاثیر کا نوٹس لیا ھوتا جب انھوں نے توھین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہ کر اس کی بے حرمتی کی اور آسیہ بی بی سے یہ کہا کہ انھوں نے توھین رسالت نھیں کی ھے تو ممتاز قادری جیسے مایوس شھری کو سلمان تاثیر کا قتل نا کرنا پڑتا۔

دراصل انصار عباسی صاحب کی بات سچائی سے کوسوں دور ھے۔
1.  توھین رسالت قانون قران شریف سے نھیں نکالا گیا بلکہ یہ جنرل زیا الحق نے آئین میں شمار کروایا تھا۔
2.سلمان تاثیر اس قانون کے استعمال سے ناخوش تھے اورانھوں نے اسی بات کو مدنظر رکھتے ھوئے آسیہ بی بی کے موضوع پر کہا تھا کہ ان کے خلاف جن لوگوں نے کیس درج کیا تھا ان کے پاس ثبوتوں کی کمی تھی۔

ایک رپورٹ کے مطابق سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی کے کیس کے بارے میں کچھ یوں کہا تھا کہ یہ ایک متنازع کیس ھے اور الزام تراشی کرنے والوں کے پاس ثبوت کی کمی ھے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سلمان تاثیر قانونی کاروائی میں دخل اندازی نھیں  دینگے اور جس حد تک مدد کر سکے کرینگے تاکہ آسیہ بی بی کو اس بات کی سزا نا ملے جو انھوں نے نا کی ھو۔

اب آئیے عباسی صاحب کی ایک اور غلط فھمی کی طرف۔ اپنے کالم میں وہ ایسے ظاھر کرتے ھیں جیسے  سلمان تاثیر نے ایک لیڈر ھونے کے ناطے آسیہ بی بی کی رھائی کی کوشش کر کے ایک غیر اسلامی حرکت کی جب کہ حضرت آئشہ رضی لله سے روایت ھے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ ایک لیڈر  کے لیئے یہ بھتر ھے کہ وہ غلطی میں معاف کرے بجائے اس کے کہ وہ غلطی میں سزا دے۔ یہ ایک سچ حدیث ھے۔


اس کے علاوہ انصار عباسی جس توھین رسالت قانون کو مقدس کہتے ھیں اس قانون یں تبدیلیاں لانے کے حق میں کاؤنسل آف اسلامک آئڈیالوجی ھے۔ یہ کاونسل اسلامی اسکارز پر مشتمل ھے اور اس کاؤنسل نے توھین رسالت قانون میں تبدیلی لانے کی حمایت کی ھے۔


یہ تو بات ھوئی صرف انکے غلط فیکٹس کی۔ اب آئیے انکی بے بنیاد دلیل کی جانب۔ انصار عباسی صاحب فرماتے ھیں کہ چونکہ سیشن کورٹ نے آسیہ بی بی کو سزا موت سنا دی تھی سلمان تاثیر ایک ممجرم کی طرف داری کر رھے تھے جس کا نوٹس حکومت نے نھیں لیا اور اس بات کو انسداد دھشت گردی کورٹ یعنی اے ٹی سی کورٹ نے نظر انداز کر دیا۔مگر سوچنے کی بات ھے کے اسی لاجک اور دلیل کے بل بوتے پر کیا انصار عباسی صاحب جیل تشریف لے جانا چاھیں گے۔کیونکہ ممتاز قادری بھی ایک مجرم ھے جسے باقائیدہ عدالت نے سزا موت سنائی ھے۔اور انصار عباسی اس وقت خود ایک عدالت سے سزا یافتہ ملزم کی جوش و جزبے سے طرف داری کر رھے ھیں جسے جنگ گروپ نے اپنے صفحہ اول پر چھاپا ھے۔

ان باتوں سے یہ ظاھر ھوتا ھے کہ انصار عباسی کے تمام سچ اور انکے دلائیل سخت کمزوری کا شکار ھیں۔ لیکن اس سب میں جنگ گروپ کی بے نیازیوں کو نظر انداز نھیں کیا جا سکتا۔انصار عباسی کی دھشت گردی کی طرف نرم دلی سے تو کافی لوگ آگاہ ھیں ھی لیکن کیا جنگ گروپ کا اس اشو یعنی موضوع کی جانب غور کرنے اور اسے صحیح کرنے کا ارادہ ھے بھی کہ نھیں۔کیا وہ اب بھی اردو قارین کو ایسے شدت پسند مضامین پڑھنے کا موقع دیتے رھیں گے۔ اس بات کا جواب حاصل ھونا صرف ضروری ھی نھیں بلکہ لازم ھو چکا ھے۔

Tags: , , , ,

Leave Comment

?>