میڈیا کی عدالت اور حسین حقانی

Nov 20th, 2011 | By | Category: Uncategorized

آج کل کے تمام تر ٹی وی کےپروگرامز کو دیکھنے کے بعد یہ اندازہ ھوا کہ ھمارا میڈیا انصاف کے اصولوں سے ناواقف ھے۔ کسی بھی ایک موضوع یا شخص کو ھدف بنا کر اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیتے ھیں۔ کچھ اپنے اداروں کے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ھیں اور کچھ اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی۔ نتیجہ یہ کہ قارئین تزبزب کا شکار رھتے ھیں۔

اب حال ھی میں میموگیٹ سکینڈل کو ھی لے لیں۔ ھر چینل نے بنا کسی تحقیق و تصدیق کے اپنا اپنا اظہار خیال شروع کر دیا۔ اس کے علاوہ اپوزیشن پارٹی کو تو موقع ملنا چاہیے۔ نوٹ کرنے والی بات یہ ھے کہ زیادہ تر کیا سارے ھی چینلز نے پاکستانی سفیر حسین حقانی کا موقف لینے کے بجائے مشکوک کردار کے مالک منصور اعجاز جو کہ ایک امریکی شھریت رکھتے ھیں اور جنہوں نے کئی بار پاکستان اور اسکی افواج کے خلاف منفی  خیالات کا اظہار اور منفی مضامین چھاپے ھیں سے رجوع کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔

یہاں پر یہ بات قابل ذکر ھے کہ حامد میر سب سے پہلے اینکر تھے جنہوں نے حسین حقانی سے رابطہ کیا اور ان کا موقف اپنے پروگرام میں پیش کیا۔ اس پروگرام کی کلپ نیچے ملاحظہ کری

Capital Talk Hamid Mir Nov 17 2011

اس کے بعد امریکہ میں موجود پاکستانی سفیر حسین حقانی نے دیگر پروگرامز میں اپنے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیا۔ حیران کن بات یہ ھے کہ اس انٹرویو سے قبل اور اس کے بعد بھی منصور اعجاز مختلف چینلز پر اپنا مقدمہ پیش کرتے رھے اور مزید حیران کن بات یہ ھے کہ ایک امریکن سٹیزن سے رابطہ کرنا زیادہ آسان ھے جو کہ یورپ منتقل ھو چکے ھیں اور ایک پاکستانی سفیر سے زیادہ مشکل جو کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں پائے جاتے ھیں۔ تعجب خیز بات یہ بھی ھے کہ ہر ٹی وی چینلز مختلف قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں پیش کرتے رھے مثلا اےآرواے نے کہا کہ پاکستانی سفیر اپنی ڈی سی کی رہائش گاہ سے کہیں اور منتقل ھو چکے ھیں۔ دنیا نے کہا کہ ان کا استعفی صدر کو موصول ھو چکا ھے جبکہ موصوف ایمبیسیڈر نے ابھی تک  استعفی دیا ھی نہیں۔ خواجہ آصف صاحب نے امریکی شہریت رکھنے کا الزام حسین حقانی پر لگایا کیا ان کے پاس ایک عرب روپے ھیں کیونکہ شاید وہ یہ بھول گئے کہ اسی بات پر نوائے وقت نے حال ھی میں پاکستانی سفیر سے معافی مانگی تاکے انہیں ایک عرب روپے کا ہرجانا نا دینا پڑے۔

پاکستانی میڈیا کو ذمہ داری کا ثبوت دیتے ھوئے حقائق پر مبنی تحقیق کے بعد ناظرین کے سامنے صحیح صورت حال کو پیش کرنا چاھئے اور من گھرٹ قیاس آرائیوں سے پرہیز  کرنا چاھئے۔

 

Tags: , , , ,

Leave Comment

?>