پاکستانی میڈیا کا انتشار اور عوام کی جھنجھلاہٹ

Dec 7th, 2011 | By | Category: Uncategorized, اردو

نیچے دی گئی فیڈ بیک/ رائے پاکستان میڈیا واچ کے ایک معزز ریڈر کی جانب سے بھیجی گئی ھے۔ پاکستان میڈیا واچ اپنے تمام قارین کے بھیجے گئے مضامین اور رائے کا خیر مقدم کرتا ھے۔ اگر آپ پاکستان میڈیا واچ کو اپنی رائے سے آگاہ کرنا چاھتے ھیں تو برائے مہربانی ھمارے ای میل پر ھم سے رجوع کیجیئے۔


میں امریکی شہر اٹلانٹا میں رہائش پزیر ایک بزنس مین ہوں۔ میں آپکا بلاگ کئی سالوں سے پڑھتا آ رہا ہوں  اور آپ کی پاکستانی میڈیا کو ان چیک رکھنے کی کوششوں کا بڑا فین بھی ہوں۔ حال ہی میں میرا عید کےموقع پر پاکستان جانے کا اتفاق ہوا اور میڈیا کی حالت دیکھ کر یقین کیجیئے رونے کا دل کیا۔ میں اپنا یہ آنکھوں دیکھا حال پاکستان میڈیا واچ اور اس بلاگ کے تمام ریڈرز کو بتانا چاہوں گا۔

چونکہ میرا یہ پاکستان کا چکر تقریبن تین سوا تین سال بعد تھا میں میڈیا چینلز کی بے چینی اور غیر ہم آہنگی دیکھ کر حیران ریہ گیا۔ جس چینل کو دیکھو وہ من گھڑت اور سنسنی خیز خبریں رپورٹ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اب چاہے وہ معاملا میمو گیٹ ہو یا این آر او یا ذوالفقار مرزا اور ایم کیو ایم کے متعلق پاکستانی میڈیا کو کہانیاں بناتے اور عوام کو پیش کرتے بالکل دیر نہیں لگتی۔ خبر کے آنے تک اور اس کی تصدیق ہونے تک بات کا بتنگڑ بن چکا ہوتا ہے اور خبر کہیں سے کہیں اور نکل جاتی ہے۔ ٹی وی چینلز پر اینکر حضرات سچائی سے کوسوں دور اپنے ماہرانا تجزیات پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اپنے خیالات کو سچ یعنی کے فیکٹ قرار دینے لگتے ہیں۔

قارین کا زیادہ وقت لیئے بغیر میں صرف دو مثالیں دوں گا۔ نمبر ایک میرا اتفاق شاہد آفریدی۔ جی ہاں ہمارے مشہور کرکٹر۔ کو حامد میر شو میں سننے کا ہوا۔ آفریدی صاحب اس شو میں اپنا ماہرنا تجزیہ پیش کرنے لگے لیکن کرکٹ نہیں سیاست پر۔ کرکٹ اور سیاست کا لنک مجھے کچھ خاص سمجھ نہیں آسکا اور نا ہی حامد میر صاحب نے سمجھایا۔ نمبر دو مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کی کہانیاں گھڑنے سے نیوز چینلز ایسے لگتا ہے خبریں کم اور انٹرٹینمنٹ کی فراہمی کا کاروبار زیادہ کر رہے ہیں۔ چاھے وہ امریکہ میں پاکستانی سفیر کا استعفی ہو ۔ شرجیل میمن اور مرزا صاحب کا لندن کا دورہ  ۔ یا پہر حال ہی میں صدر صاحب کا مرز قلب کے بنا پر دبئ کا دورہ یا نیوز اینکر کی خبر کی فراہمی کا  طنز یہ انداز پاکستانی نیوز میڈیا لگتا ہے پروفیشنلزم نام کی چیز سے بالکل نا واقف ہے۔ایک خبر سے دس مختلف خبریں نکالنا کوئی پاکستانی میڈیا سے سیکھے۔ خبر کو شائع کرنے سے پہلے تصدیق نا کرنے کا رواج میں نے پچھلے چند ہی سالوں میں اوپر آتے دیکھا ہے اور خوفناک بات یہ ہے کہ اس سب کو ان چیک یا روکنے والا کوئی نہیں۔

مختصرن یہ کہ پاکستان سے واپس آنے کےبعد اب مجھے فاکس نیوز پر زیادہ غصہ نہیں آتا اور پاکستانی میڈیا کی اس حالت سے میں کچھ زیادہ پر امید بھی نہی ہوں۔ میں البتہ اپنے ملک کی بگڑتی ہوئ حالت پر لله سے دعاگو ضرور ہوں۔ پاکستان زندہ باد

Tags: , , , , ,

Leave Comment

?>