اے این پی کے لیڈر زاہد خان صاحب کی کلپ پاکستان میڈیا واچ نے اس لئیے قارین کے سامنے پیش کرنا مناسب سمجھی تاکے میڈیا کا رویہ منظر عام پر لایا جا سکے۔
زاہد خان صاحب چند اہم نکات مییڈیا سے وابستتگی کی بنیاد پر اٹھاتے ھیں۔اور میڈیا کو جانب دار ٹھرایا۔ نیچے دی گئی حامد میر کے شو کیپیٹل ٹاک میں آنے والی کلپ ملاحظہ کیجئیے۔
سینیٹر زاہد خان کی گفتگو آپ نیچے سن سکتے ھیں۔ پاکستان میڈیا واچ کئی بار اسی رؤئے کو سامنے لاچکا ہے اور کئی بار میڈیا کی غیر ذمہدارانہ رپورٹنگ کی ملامت کر چکا ہے۔
نیچے دی گئی فیڈ بیک/ رائے پاکستان میڈیا واچ کے ایک معزز ریڈر کی جانب سے بھیجی گئی ھے۔ پاکستان میڈیا واچ اپنے تمام قارین کے بھیجے گئے مضامین اور رائے کا خیر مقدم کرتا ھے۔ اگر آپ پاکستان میڈیا واچ کو اپنی رائے سے آگاہ کرنا چاھتے ھیں تو برائے مہربانی ھمارے ای میل پر ھم سے رجوع کیجیئے۔
میں امریکی شہر اٹلانٹا میں رہائش پزیر ایک بزنس مین ہوں۔ میں آپکا بلاگ کئی سالوں سے پڑھتا آ رہا ہوں اور آپ کی پاکستانی میڈیا کو ان چیک رکھنے کی کوششوں کا بڑا فین بھی ہوں۔ حال ہی میں میرا عید کےموقع پر پاکستان جانے کا اتفاق ہوا اور میڈیا کی حالت دیکھ کر یقین کیجیئے رونے کا دل کیا۔ میں اپنا یہ آنکھوں دیکھا حال پاکستان میڈیا واچ اور اس بلاگ کے تمام ریڈرز کو بتانا چاہوں گا۔
چونکہ میرا یہ پاکستان کا چکر تقریبن تین سوا تین سال بعد تھا میں میڈیا چینلز کی بے چینی اور غیر ہم آہنگی دیکھ کر حیران ریہ گیا۔ جس چینل کو دیکھو وہ من گھڑت اور سنسنی خیز خبریں رپورٹ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اب چاہے وہ معاملا میمو گیٹ ہو یا این آر او یا ذوالفقار مرزا اور ایم کیو ایم کے متعلق پاکستانی میڈیا کو کہانیاں بناتے اور عوام کو پیش کرتے بالکل دیر نہیں لگتی۔ خبر کے آنے تک اور اس کی تصدیق ہونے تک بات کا بتنگڑ بن چکا ہوتا ہے اور خبر کہیں سے کہیں اور نکل جاتی ہے۔ ٹی وی چینلز پر اینکر حضرات سچائی سے کوسوں دور اپنے ماہرانا تجزیات پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اپنے خیالات کو سچ یعنی کے فیکٹ قرار دینے لگتے ہیں۔
قارین کا زیادہ وقت لیئے بغیر میں صرف دو مثالیں دوں گا۔ نمبر ایک میرا اتفاق شاہد آفریدی۔ جی ہاں ہمارے مشہور کرکٹر۔ کو حامد میر شو میں سننے کا ہوا۔ آفریدی صاحب اس شو میں اپنا ماہرنا تجزیہ پیش کرنے لگے لیکن کرکٹ نہیں سیاست پر۔ کرکٹ اور سیاست کا لنک مجھے کچھ خاص سمجھ نہیں آسکا اور نا ہی حامد میر صاحب نے سمجھایا۔ نمبر دو مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کی کہانیاں گھڑنے سے نیوز چینلز ایسے لگتا ہے خبریں کم اور انٹرٹینمنٹ کی فراہمی کا کاروبار زیادہ کر رہے ہیں۔ چاھے وہ امریکہ میں پاکستانی سفیر کا استعفی ہو ۔ شرجیل میمن اور مرزا صاحب کا لندن کا دورہ ۔ یا پہر حال ہی میں صدر صاحب کا مرز قلب کے بنا پر دبئ کا دورہ یا نیوز اینکر کی خبر کی فراہمی کا طنز یہ انداز پاکستانی نیوز میڈیا لگتا ہے پروفیشنلزم نام کی چیز سے بالکل نا واقف ہے۔ایک خبر سے دس مختلف خبریں نکالنا کوئی پاکستانی میڈیا سے سیکھے۔ خبر کو شائع کرنے سے پہلے تصدیق نا کرنے کا رواج میں نے پچھلے چند ہی سالوں میں اوپر آتے دیکھا ہے اور خوفناک بات یہ ہے کہ اس سب کو ان چیک یا روکنے والا کوئی نہیں۔
مختصرن یہ کہ پاکستان سے واپس آنے کےبعد اب مجھے فاکس نیوز پر زیادہ غصہ نہیں آتا اور پاکستانی میڈیا کی اس حالت سے میں کچھ زیادہ پر امید بھی نہی ہوں۔ میں البتہ اپنے ملک کی بگڑتی ہوئ حالت پر لله سے دعاگو ضرور ہوں۔ پاکستان زندہ باد
پاکستان میڈیا واچ اگرچہ انصار عباسی کا کالم انگریزی زبان میں چھاپ چکا ھے لیکن پھر بھی ھماری ٹیم نے اردو میں پوسٹ کرنا اور بھی مناسب سمجھا تاکہ اردو قارین بھی اچھی طرح سچائی سے واقف ھو سکیں۔
انصار عباسی اپنے جنگ کے کالم میں سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی انسداد دھشت گردی عدالت کی سزا کو عدالت کی ایک کوتاھی بیان کرتے ھیں۔ جج کے فیصلے کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ھوئے وہ فرماتے ھیں کہ عدالت نے سب سے ضروری چیز کو نظر انداز کر دیا۔ وہ ضروری چیز یا فیکٹر بقول انصار عباسی حکومت کی بے نیازی ھے۔ انصار عباسی کا زیر بحث کالم نیچے ملاحضہ کیجیے۔
انصار عباسی اپنے کالم میں اس کیس کو کچھ یوں ظاھر کرتے ھیں کے جیسے اگر حکومت اس قدر بے نیاز نا ھوتی اور سلمان تاثیر کا نوٹس لیا ھوتا جب انھوں نے توھین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہ کر اس کی بے حرمتی کی اور آسیہ بی بی سے یہ کہا کہ انھوں نے توھین رسالت نھیں کی ھے تو ممتاز قادری جیسے مایوس شھری کو سلمان تاثیر کا قتل نا کرنا پڑتا۔
دراصل انصار عباسی صاحب کی بات سچائی سے کوسوں دور ھے۔ 1. توھین رسالت قانون قران شریف سے نھیں نکالا گیا بلکہ یہ جنرل زیا الحق نے آئین میں شمار کروایا تھا۔ 2.سلمان تاثیر اس قانون کے استعمال سے ناخوش تھے اورانھوں نے اسی بات کو مدنظر رکھتے ھوئے آسیہ بی بی کے موضوع پر کہا تھا کہ ان کے خلاف جن لوگوں نے کیس درج کیا تھا ان کے پاس ثبوتوں کی کمی تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی کے کیس کے بارے میں کچھ یوں کہا تھا کہ یہ ایک متنازع کیس ھے اور الزام تراشی کرنے والوں کے پاس ثبوت کی کمی ھے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سلمان تاثیر قانونی کاروائی میں دخل اندازی نھیں دینگے اور جس حد تک مدد کر سکے کرینگے تاکہ آسیہ بی بی کو اس بات کی سزا نا ملے جو انھوں نے نا کی ھو۔
اب آئیے عباسی صاحب کی ایک اور غلط فھمی کی طرف۔ اپنے کالم میں وہ ایسے ظاھر کرتے ھیں جیسے سلمان تاثیر نے ایک لیڈر ھونے کے ناطے آسیہ بی بی کی رھائی کی کوشش کر کے ایک غیر اسلامی حرکت کی جب کہ حضرت آئشہ رضی لله سے روایت ھے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ ایک لیڈر کے لیئے یہ بھتر ھے کہ وہ غلطی میں معاف کرے بجائے اس کے کہ وہ غلطی میں سزا دے۔ یہ ایک سچ حدیث ھے۔
اس کے علاوہ انصار عباسی جس توھین رسالت قانون کو مقدس کہتے ھیں اس قانون یں تبدیلیاں لانے کے حق میں کاؤنسل آف اسلامک آئڈیالوجی ھے۔ یہ کاونسل اسلامی اسکارز پر مشتمل ھے اور اس کاؤنسل نے توھین رسالت قانون میں تبدیلی لانے کی حمایت کی ھے۔
یہ تو بات ھوئی صرف انکے غلط فیکٹس کی۔ اب آئیے انکی بے بنیاد دلیل کی جانب۔ انصار عباسی صاحب فرماتے ھیں کہ چونکہ سیشن کورٹ نے آسیہ بی بی کو سزا موت سنا دی تھی سلمان تاثیر ایک ممجرم کی طرف داری کر رھے تھے جس کا نوٹس حکومت نے نھیں لیا اور اس بات کو انسداد دھشت گردی کورٹ یعنی اے ٹی سی کورٹ نے نظر انداز کر دیا۔مگر سوچنے کی بات ھے کے اسی لاجک اور دلیل کے بل بوتے پر کیا انصار عباسی صاحب جیل تشریف لے جانا چاھیں گے۔کیونکہ ممتاز قادری بھی ایک مجرم ھے جسے باقائیدہ عدالت نے سزا موت سنائی ھے۔اور انصار عباسی اس وقت خود ایک عدالت سے سزا یافتہ ملزم کی جوش و جزبے سے طرف داری کر رھے ھیں جسے جنگ گروپ نے اپنے صفحہ اول پر چھاپا ھے۔
ان باتوں سے یہ ظاھر ھوتا ھے کہ انصار عباسی کے تمام سچ اور انکے دلائیل سخت کمزوری کا شکار ھیں۔ لیکن اس سب میں جنگ گروپ کی بے نیازیوں کو نظر انداز نھیں کیا جا سکتا۔انصار عباسی کی دھشت گردی کی طرف نرم دلی سے تو کافی لوگ آگاہ ھیں ھی لیکن کیا جنگ گروپ کا اس اشو یعنی موضوع کی جانب غور کرنے اور اسے صحیح کرنے کا ارادہ ھے بھی کہ نھیں۔کیا وہ اب بھی اردو قارین کو ایسے شدت پسند مضامین پڑھنے کا موقع دیتے رھیں گے۔ اس بات کا جواب حاصل ھونا صرف ضروری ھی نھیں بلکہ لازم ھو چکا ھے۔
جاوید چوھدری اپنے پروگرام کل تک کے ابتدائی حصے میں حزارہ میں ھونے والے افراد کے قتل پر تبصرے کے بجائے اس بس ڈرایور کی زیادہ تعریف میں مصروف رھے جو ان کی لاشوں کو ھسپتال لے کر گیا۔ نیچے دی گئ کلپ ملاحضہ کیجیے
پروگرام کا ابتدائی حصہ دیکھ کر یوں لگتا ھے کہ جیسے جاوید صاحب اھم اشو کو چھوڑ کر غیر اھم باتوں پر زیادہ توجہ دے رھے ھیں۔ بجائے اس کے کہ وہ اختر آباد کے لوگوں کے قتل کی مزمت کریں جاوید صاحب حکومت سے اس ڈآیور کے لیے تمغے کی ڈیمانڈ کرنے لگے۔
اس شرمناک روئیے کو پاکستان میڈیا سے ختم کرنے کی ضرورت ھے اور جاوید چودھری کے اس رویے پر مزمت کی بہت سخت ضرورت ھے۔
مبشر لقمان اپنے پروگرام کھری بات لقمان کے ساتھ میں امریکہ میں ھونے والے ستمبر 11 ,2001 کے سانحے کو ایک محض فریب اور دھوکہ کہتے ھیں۔ ان کے پروگرام کی ایک کلپ نیچے ملاحضہ فرمائیے۔
یہ پھلی بار نہیں ھے کہ مبشر لقمان اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کے لئیے من گھڑت کہانیاں بنانے لگتے ھیں۔ پاکستان میڈیا واچ پہلے بھی کئی بار انکے پول کھول چکا ھے۔
مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں کانسپیرسی تھیوری پیش کی جو کہ کئ با ڈی بنک یعنی غلط ثابت ھو چکی ھے۔ انھوں نے اپنے شو میں یہ بات دائر کرانے کی کوشش کی کہ ستمبر کا یہ واقع امریک کی جانب سے ایک ڈھونگ اور تماشہ تھا اور دراصل امریکہ نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی بلڈنگ کو سیلف ڈیٹونیٹ یعنی خود کردہ دھماکہ کر کے تباہ کیا ھے۔
مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں یہ بھی فرمایا کہ امریکہ کی سٹیٹ پینسلوینیا میں اسی تاریخ کو گرنے والے جہاز کو امریکی حکام نے خود مار گرایا۔ انھوں نے پھر بلڈنگ سیون کے بارے میں چند باتیں کریں۔
پاکستان میڈیا واچ ٹیم نے مبشر لقمان کے سب سوالات سننے کے بعد تمام باتیں اپنے قارین کو بتانا ضروری سمجھی ھیں۔
مبشر لقمان کہتے ھیں کی اتنی بڑی بلڈنگ اس طرز سے نھیں گر سکتی۔
بالکل غلط۔ ماضی میں کبھی اس طرح ایک جہاز بلڈنگ سے نھیں ٹکرایا اس لئے یہ کہنا بالکل غلط ھے۔اس طرز کا ٹیوب ان ٹیوب ڈیزاین منفرد ھے اور باقی طرح کی بلڈنگ سے الگ ھے۔
سپین کی بلڈنگ میں آگ مسلسل لگی زھی لیکن وہ نھیں گری۔ورلڈ ٹریڈ سینٹر کیسے گر گیا۔
سپین کی دو بلڈنگز میں آگ لگی رھی تھی اور وہ دونوں نھیں گریں کیونکہ ان کا ٹیوب ان ٹیوب ڈیزائن نھیں تھا۔ ان کے ستون یعنی پلر لوھے اور کانکریٹ کے تھے جبکہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ستون کانکریٹ میں لپٹے ھوئے نہیں تھے۔میڈرڈ سپین بلڈنگ کے وہ تمام ستون جن کے گرد کانکریٹ نھیں تھی اسی طرح ٹوٹے جیسے کے ورلڈ ٹاورز۔
ہوائی جہاز کے ٹکرانے سے اتنی بڑی عمارت کیسے گر سکتی ھے
نیشنل انسٹئٹیوٹ آف سٹینڈرڈ اینڈ ٹیکنالوجینے اپنی رپورٹ میں یہ نھیں کہا کہ عمارتیں جہاز کی ٹکر سے گری ھیں بلکہ یہ بتایا کہ مسلسل آگ نے بلڈنگز کی بنیادیں کمزور کر دی تھیں۔(NIST)
بلڈنگ سیون کو کوئی نقصان نھیں پہنچا تھا اور اسے خود تباہ کیا گیا۔
نیچے دی گئی تصویر ملاحضہ کیجیئے۔اور پھر غور کیجیے۔
ایک وڈیو کلپ بھی ملاحضہ کیجئے جو کہ بلڈنگ سیون کا جائزہ لے رھی ھے۔
عمارت سے دھماکوں کی آوازیں آئیں جسے ثابت ھوتا ھے کہ عمارتیں خود کردہ دھماکے سے گریں۔
کانکریٹ فلورنگ لوھے اور فرنیچر کے ٹوٹنے اور بڑے بڑے لوھے کے ستون پریشر پڑنے کے باعث چٹخنے سے اونچی آواز دھماکے کے مترادف ھو سکتی ھے۔
اس کے علاوہ بھی مبشر لقمان نے کئ ایسی باتیں کی جس نے ھمیں ان کی قابلیت پر شق کرنے کا موقع دیا۔
میڈیا اینکرز کا اصل مقصد اپنے پروگرام میں قابل اور مہارت رکھنے والے اینیلسٹ کو بلا کے ان کی رائے لینا ھوتا ھے کامیڈی فراھم کرنا نہیں۔ مبشر لقمان کا پروگرام دن بدن غیک معیاری اور ان پروفیشنل ھوتا جا رھا ھے۔ اگر انھوں نے اس طرح کے پروگرام کا سلسلہ جاری رکھا تو لوگ انکا یہ شو سیاسی اور معاشی تبصرے کو جاننے کے لئے کم اور لطف اندوز ھونے کے لیئے زیادہ دیکھیں گے۔
آج کامران خان کے ساتھ جیو ٹی وی کا ایک بہت مشہور تجزیاتی پروگرام ھے لیکن حال ھی میں بروڈکاسٹ کیئے گئے پروگرامز ک دیکھ کر کچھ ایسے لگتا ھے جیسے کامران خان تجزیہ نگار کم اور ایم کیو ایم کے میڈیا منسٹر زیادہ ھیں۔
نیچے دی گئی ایک کلپ ملاحضہ فرمائیے۔
اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد یہ صاف واضع ھو جاتا ھے کہ کامران خان مصطفہ کمال کی تعریف کرتے نہیں تھکتے اور درمیانہ روی اختیار کرنے کے بجائے ام کیو ایم کی طرف داری کرنا شروع ھو گے۔
جو بات کامران خان صاحب کے روئیے سے پتا چلتی ھے وہ ھے کہ عوام کے جزبات پر کھیلتے ھوئے صرف اپنی ریٹنگ بڑھانہ ایک نہایت گری ھوئی بات ھے اور اینکر حضرات کو وہ سوالات کرنے چاھیں جو کہ اب تک نھیں اٹھائے گئے ھیں۔ جو بات کامران خان صاحب کے روئیے سے پتا چلتی ھے وہ ھے کہ عوام کے جزبات پر کھیلتے ھوئے صرف اپنی ریٹنگ بڑھانہ ایک نہایت گری ھوئی بات ھے اور اینکر حضرات کو وہ سوالات کرنے چاھیں جو کہ اب تک نھیں اٹھائے گئے ھیں۔
کامران خان صاحب سے چند سوالات پاکستان میڈیا واچ بھی کرن چاھے گی۔ کیا انہوں نے اپنے پروگام میں چٹ پٹی مصالحہ دار گپ شپ کے بجائے کبھی مندرجہ ذیل سوالات اٹھائے ھیں۔
کیا اس بات کا پتا چلانا ضروری نہیں تھا کہ اسامہ بن لادن پچھلے پانچ سال میں پاکستان میں کیسے موجود تھا بجائے اس کے کہ ملکی خودمختاری کا رونا رویا جائے۔
بڑے ناموں والے سیاست دانوں نے اپنے سرکاری یا سیاسی عہدے کیوں چھوڑے۔
گورنر پنجاب کا قتل صرف ایک آدمی کے سر پر ھے یا اس کا قصوروار ھمارہ معاشرہ ھے جس نے ان حالات کو پنپنے کی اجازت دی۔
پی۔این۔ایس مہران کے حملہ وار آخر کون تھے۔
وفاقی وزیر شہباز بھٹی کا قاتل کون ھے اور کیا مسلمان نہ ھونا ھی صرف انہیں قتل کرنے کے لیے جواز کافی ھے۔
کیا دھشت گردی کراچی کے بڑھتے ھوئے خراب حالات کی ذمہ دار نھیں ھے۔
کیا الطاف حسین اور ذولفقار مرزا صاحبان کی الزام تراشیاں ملک کے حق میں اچھی ھیں۔
کسی بھی اینکر کا اصل مقصد اپنی رائے نہیں بالکہ اپنے مہمان کی رائے اور پرسپیکٹؤ لینا ھوتا ھے۔ اپنی ذاتی رائے گھول کر عوام کو خبروں کے روپ میں پیش کرنا نا صرف غلط ھے بالکہ ان پروفیشنل بھی۔
اول بات تو یہ دوم یہ کہ کامران خان ایک مشہور اور پرانے اینکر پرسن ھیں۔ انہیں اس بات کا احساس ھونا چاہیے کہ عوام تک ضروری اور سچی خبر پہنچانے کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ھےعوام ٹاک شوز اس لئے دیکھتی ھے تاکہ اسےاس بات کا علم ھو سکے کہ مسائل کی وجوہات اور ان کے حل کیا ھیں۔۔
جناب طاہر ملک اپنے روزنامہ وقت اخبار کے کالم میں ایک بہت ضروری نقطہ پیش کرتے ھیں۔ ھم اپنے اس قاری کے شکرگزار ھیں جس نے وقت نکال کر ھماری توجہ ملک صاحب کے کالم کی جانب دآئر کی۔
طاہر صاحب اپنے کالم میں اینکر حضرات کی سچائی اور موقف کا جائزہ لیتے ھوئے اس بات پر زور دیتے ھیں کے عوام کے جزبات پر کھیلتے ھوئے صرف اپنی ریٹنگ بڑھانہ ایک نہایت گری ھوئی بات ھے اور اینکر حضرات کو وہ سوالات کرنے چاھیں جو کہ اب تک نھیں اٹھائے گئے ھیں۔
طاہر صاحب کے کالم کے دونوں لنک نیچے ملاحظہ فرمائیے
پاکستان میڈیا واچ جنگ گروپ کی دوغلی اور مکار اردو اور انگریزی اخبارات کی مختلف رپورٹنگ تو سامنے لا ھی چکا ھے۔ اب ملاحظہ فرمائیں روزنامہ ایکسپریس اردو اور ایکسپریس ٹریبیون انگلش کی رپورٹنگ میں فرق۔
سب سے پھلے ایکسپریس ٹریبیون انگلش کی یہ مکمل رپورٹ دیکھیے۔ اس بات کا دھیان رھے کہ اس انگریزی کالم میں کھیں بھی نام نھیں بتائے گئے اور یہ صاف صاف لکھ دیا گیا کہ چمکانی پولیس اسٹیشن نے اس واقع کی تصدیق نھیں کی ھے اور انھیں اس واقع کے بارے میں علم نھیں۔ اسی خبر کا ایک حصہ نیچے ملاحظہ کیجئے۔
اب اسی موضوع پر ایکسپریس اردو اخبار کی کلپ ماحظہ فرمائیں۔
جیسے کہ قارین ملاحظہ فرما سکتے ھیں ایکسپریس اخبار اپنی اردو پڑھنے والے قارین کو کچھ اور اور انگلش پڑھنے والے قارین کو کچھ اور خبریں پیش کرتے ھیں۔
اردو اخبار میں ان چار امریکی باشندوں کو فوجی قرار دے دیا گیا ھے اور ان کے من گھڑت نام تک بنا کر پیش کئیے گئے ھیں۔ اردو اخبار تو یہ خبر دیتا ھے کہ ان امریکی فوجیوں مایک کا نام کرنل پاول ھے اور ایک کا نام لیفٹیننٹ جان لیوی ھے۔ واضح رھے کہ یہ نام من گھڑت ھیں اور اردو ایکسپریس اپنے قارین کو بلا تصدیق غلط انفارم کر رھا ھے۔
یہ بات بھی واضح رھے کہ اردو اخبار میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ چمکانی پولیس تھانے نے اس واقع کی تصدیق نھیں کی اور نا ھی اس موضوع پر کوئی پریس سٹیٹمینٹ دی ھے۔ روزنامہ ایکسپریس اخبار نے یھان تک خبر دی کہ صوبائی حکومت نے دفتر خارجہ کو آگاہ کر دیا ھے جب کے ایسی کوئی بات نھیں ھوئی۔ جب چمکانی پولیس تھانہ ھی تصدیق نھیں کر رھا تو صوبائی حکومت کو کیسے کوئی خبر مل سکتی ھے۔
صاف اور شفاف رپورٹنگ پاکستانی عوام کا حق ھے اور ایکسپریس کی دوغلی رپورٹنگ پاکستانی عوام سے انکا یہ حق چھینتی نظر آتی ھے۔
محر بخاری اپنے پروگرام کراس فائر میں مختلف قابل سیاست دانوں اور پالیسی میکرز کو بطور گیسٹ بلاتی ھیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ اپنے مہمانوں سے گفتگو کرتی ھیں وہ نہایت شرمناک ھے۔
محر بخاری کے کل شب کے پروگرام کو دیکھنے کے بعد کچھ یوں محسوس ھوتا ھے کہ وہ اپنی بدتمیز طرزعمل اور غیر ذمہدارانا پروگرام ھوسٹنگ پر فخر محسوس کرتی ھیں۔ پروگرام میں مہمانوں کو بولنے دینے کے بجائے محر بخاری نے کئی بار ان کی بات کاٹی اور نا صرف بات کے دوران ہنسیں اور دانت نکالے بلکہ بدتمیزی سے منہ پھٹ جواب بھی کئ بار دئے۔ پروگرام نیچے ملاحظہ کیجئیے
اگرچہ اس انداز میں گفتگو محر کے لیے کوئ نئ بات نھیں ھے اور محر بخاری کے اس رؤیے کو پاکستان میڈیا واچ پہلے ہی ایکسپوز تو کر چکا ھے مگر سوچنے والی بات یہ ھے کہ اس طرح کے طنز آمیز روئیے سے نا صرف وہ اپنے گیسٹ کے بڑکپن کو اور واضح کر رھی ھیں بلکہ اپنی بھی بے پناہ بے عزتی کروا رھی ھیں۔
سچی اور ٹرانسپیرنٹ رپورٹنگ کا تقاضا ھے کہ کسی بھی بحث میں دونوں طرف کی بات بلا کسی کی طرفداری کئیے سنی جائے اور باقاعدہ گفتگو کے بعد ایک مجموعی حل پیش کیا جائے جس پر سب پارٹیاں آمادہ ھوں۔اور ایسے نہ ھو کے بات مکمل ھونے سے پہلے ھی یا تو کاٹ دی جائے یا پھر اس بات پر ھنسنا شروع کر دیا جائے۔
اتوار کے جنگ اخبار کی سرخی کو دیکھنے کے بعد جنگ اخبار کی کھوکھلی رپورٹنگ کھل کر سامنے آ جاتی ھے۔ اتوار کی سرخی نیچے ملاحضہ فرمائیے
اگر غور کریں تو پتا چلتا ھے کہ صارفین سے ایک نھیں بلکے کئی جھوٹ بولے جارھے ھیں۔ سب سے پھلی کوتاھی ھے بنا تصدیق یہ خبر چھاپنا کہ جاںبحق ھونے والے امریکی سیل امریکی اسپیشل فورسز کا وھی دستہ تھا جو کہ ایبٹ آباد ریڈ میں ملوث تھا۔
جنگ گروپ کھانیاں گھڑنے میں اس حد تک مہارت رکھتا ھے کہ اس نے اس سراغ رساں کتے اور اسکے ٹرینر تک کو خالق حقیقی سے جا ملوایا جو کہ اسامہ بن لادن آپریشن میں موجود تھے۔
اس کے علاوہ عوام کے ساتھ کھلم کھلا جھوٹ بولنا اور ان کے دینی جزبات کے ساتھ کھیلنا بھی جنگ گروپ کے لئے کوئی بڑی اور نئی بات نھیں۔
اس خبر میں جنگ اخبار رپورٹ کرتا ھے کے امریکی ہیلی کاپٹر گرنے کے فورن بعد نیٹو نے طیارے بلوائے اور آٹھ بے گناہ لوگ جاں بحق ھو گئے۔ جنگ اخبار اس حد تک جھوٹی رپورٹنگ کرتا ھے کے ان من گھڑت جاں بحق ھونے والوں کی نشان دھی بھی کئیے دیتا ھے۔ ان میں سے ایک آدمی کو مسجد کا امام بنا دئیا۔ایک کو اس کی بیگم اور باقی چھ انکے من گھڑت بچے۔
یہ تمام باتیں جھوٹ اور من گھڑت ھیں اور اصلیت نیو یارک ٹائمز اخبار میں چھپ چکی ھے۔ لیکن جنگ اخبار اپنی عادت سے مجبور ھے اور جھوٹی رپورٹنگ کی روایت کو برقرار رکھے ھوئے ھے۔
اب یہ سرخی جو کہ اسی دن کے اخبار میں چھپی ھے نیچے ملاحضہ فرمائیے
پاکستان میڈیا واچ نے چونکہ یہ بات پھلے واضح کر دی ھے ھم اس موضوع پر صرف یہگزارش کریں گے کہ طالبان نے اس حادثے کی ذمہ داری لی ھے۔ اس میں کوئی شک والی بات نھیں اور اسے ایک کانسپرسی تھیوری بنا کر عوام کی نظر میں پیش کرنا تاکہ وہ گمراہ ھوں ایک بڑی ھی نیچی اور گری ھوئی بات ھے۔
ان سب باتوں اور اس کے علاوہ جنگ گروپ کی روزمرہ کی رپورٹنگ سے اس بات کا اندازہ ھوتا ھے کہ جنگ گروپ نے عوام کو دھوکے پر دھوکہ دیتے چلے جانے کی حامی بھری ھوئی ھے۔ شاید جنگ گروپ کو یہ نھیں پتا کہ عوام پاگل نھیں ھے اور اس کو دو جمع دو کرنا آتا ھے۔ شاباش۔ لگے رھو جنگ بھائی۔