جاوید چودھری اردو اور پاکستانی میڈیا کی ایک بلاشبہ مشہور ہستی ھیں۔ ایکسپرس نیوز کے پروگرام کل تک کے اینکر ھونے کے ساتھ ساتھ وہ زیرو پوائنٹ نامی کالم ایکسپریس کے ہی اردو اخبار میں بھی لکھتے ھیں۔ اس بات میں کوئی شک نھیں کہ چاھے لوگ انھیں زاتی طور پر پسند کریں یا نا کریں لیکن اردو اخبارات میں جاوید صاحب کی ریڈرشپ یعنی پڑھت کافی زیادہ ھے۔
یکم اپریل کو ان ہی جاوید چودھری صاحب کا ایک ایسا کالم چھپا جسے پڑھ کے کسی بھی عزتمند انسان کو سخت غصہ اور شرم آ جائے۔ وہ کالم یہاں ملاحظہ کیجئیے۔
حالانکہ بظاہر تو جاوید صاحب کالم میں تیزاب پھینکنے والے آدمی کی جھوٹے منہ مزمت کرتے پائے جاتے ھیں لیکن پورا کالم پڑھنے کے بعد معلوم ھوتا ھے کہ کہانی کچھ اور ہی ھے۔ کالم پڑھنے کے بعد اس بات کا اندازہ ھوتا ھے کہ جاوید صاحب پنجابی جملہ منگدی پئی ھے کے مترادف اپنے قارین کو سبق دینا چاھتے ھیں۔ ان کی بظاھر مزمت اس بات کو عیاں کرتی ھے کہ شاید عورتیں اپنے اوپر خود ھی یہ مصیبت لے کر آتی ھیں مردوں کی نافرمانی کر کے۔
جاوید صاحب کے کالم کا محور تیزاب پھکوانے والے آدمی ھے اور قارین کو پڑھتے ھوئے یوں محسوس ھوتا ھے جیسے وہ لاچار اور بے بس تھا جبکہ وہ عورت جس کے اوپر تیزاب پھینکا گیا صرف کالم میں اپنے زخموں کی تفصیل کے بنا پر سامنے آتی ھے۔
اس بات میں کوئی شک نھیں کہ معاشرے میں جو نفسیات اور خیالات پائے جاتے ھیں ان کا اظہار ھمارےحالات حاضرہ ٹاک شوز کے اینکرپرسنز میں ھوتا ھے۔ سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ کیا کالم نگار اور مشہور ٹی وی شخصیات اس طرح کے روئیے سے بغیر عدالتی مداخلت کےکسی بھی مرد کے نظریے سے اصاف حاصل کرنے کو فروغ دے سکتے ھیں۔ جاوید چودھری کا یہ کالم درندہ صفتگی کو پھلنے پھولنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتا دکھائی دیتا ھے۔ ان کے اس طرح کے کالم مردوں کو عورتوں پر ظلم کرنے کی کھلی چھوٹ دینے کی اجازت دیتے دکھائی جاتے ھیں۔ اس طرح کے کالم نا صرف خطرناک ھیں بلکہ ایکسپریس اردو کی سب سٹینڈرڈ رپورٹنگ کو کھل کر سامنے لاتے ھیں۔

















