Archive for the ‘اردو’ Category

محر بخاری اور ان کا انداز

Thursday, August 11th, 2011

محر بخاری اپنے پروگرام کراس فائر میں مختلف قابل سیاست دانوں اور پالیسی میکرز کو بطور گیسٹ بلاتی ھیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ اپنے مہمانوں سے گفتگو کرتی ھیں وہ نہایت شرمناک ھے۔

محر بخاری کے کل شب کے پروگرام کو دیکھنے کے بعد کچھ یوں محسوس ھوتا ھے کہ وہ اپنی بدتمیز طرزعمل اور غیر ذمہدارانا پروگرام ھوسٹنگ پر فخر محسوس کرتی ھیں۔ پروگرام میں مہمانوں کو بولنے دینے کے بجائے محر بخاری نے کئی بار ان کی بات کاٹی اور نا صرف بات کے دوران ہنسیں اور دانت نکالے بلکہ بدتمیزی سے منہ پھٹ جواب  بھی کئ بار دئے۔ پروگرام نیچے ملاحظہ کیجئیے

اگرچہ اس انداز میں گفتگو محر کے لیے کوئ نئ بات نھیں ھے اور محر بخاری کے اس رؤیے کو پاکستان میڈیا واچ پہلے ہی ایکسپوز تو کر چکا ھے مگر سوچنے والی بات یہ ھے کہ اس طرح کے طنز آمیز روئیے سے نا صرف وہ اپنے گیسٹ کے بڑکپن کو اور واضح کر رھی ھیں بلکہ اپنی بھی بے پناہ بے عزتی کروا رھی ھیں۔

سچی اور ٹرانسپیرنٹ رپورٹنگ کا تقاضا ھے کہ کسی بھی بحث میں دونوں طرف کی بات بلا کسی کی طرفداری کئیے سنی جائے اور باقاعدہ گفتگو کے بعد ایک مجموعی حل پیش کیا جائے جس پر سب پارٹیاں آمادہ ھوں۔اور ایسے نہ ھو کے بات مکمل ھونے سے پہلے ھی یا تو کاٹ دی جائے یا پھر اس بات پر ھنسنا شروع کر دیا جائے۔

جنگ گروپ کی جھوٹی اور من گھڑت رپورٹنگ

Monday, August 8th, 2011

اتوار کے جنگ اخبار کی سرخی کو دیکھنے کے بعد جنگ اخبار کی کھوکھلی رپورٹنگ کھل کر سامنے آ جاتی ھے۔ اتوار کی سرخی نیچے ملاحضہ فرمائیے

اگر غور کریں تو پتا چلتا ھے کہ صارفین سے ایک نھیں بلکے کئی جھوٹ بولے جارھے ھیں۔ سب سے پھلی کوتاھی ھے بنا تصدیق یہ خبر چھاپنا کہ جاںبحق ھونے والے امریکی سیل امریکی اسپیشل فورسز کا وھی دستہ تھا جو کہ ایبٹ آباد ریڈ میں ملوث تھا۔

جنگ گروپ کھانیاں گھڑنے میں اس حد تک مہارت رکھتا ھے کہ اس نے اس سراغ رساں کتے اور اسکے ٹرینر تک کو خالق حقیقی سے جا ملوایا جو کہ اسامہ بن لادن آپریشن میں موجود تھے۔

اس کے علاوہ عوام کے ساتھ کھلم کھلا جھوٹ بولنا اور ان کے دینی جزبات کے ساتھ کھیلنا  بھی جنگ گروپ کے لئے کوئی بڑی اور نئی بات نھیں۔

اس خبر میں جنگ اخبار رپورٹ کرتا ھے کے امریکی ہیلی کاپٹر گرنے کے فورن بعد نیٹو نے طیارے بلوائے اور آٹھ بے گناہ لوگ جاں بحق ھو گئے۔ جنگ اخبار اس حد تک جھوٹی رپورٹنگ کرتا ھے کے ان من گھڑت جاں بحق ھونے والوں کی نشان دھی بھی کئیے دیتا ھے۔ ان میں سے ایک آدمی کو مسجد کا امام بنا دئیا۔ایک کو اس کی بیگم اور باقی چھ انکے من گھڑت بچے۔

یہ تمام باتیں جھوٹ اور من گھڑت ھیں اور اصلیت نیو یارک ٹائمز اخبار میں چھپ چکی ھے۔ لیکن جنگ اخبار اپنی عادت سے مجبور ھے اور جھوٹی رپورٹنگ کی روایت کو برقرار رکھے ھوئے ھے۔

اب یہ سرخی جو کہ اسی دن کے اخبار میں چھپی ھے نیچے ملاحضہ فرمائیے

Helicopter crash conspiracy by Jangپاکستان میڈیا واچ نے چونکہ یہ بات پھلے واضح کر دی ھے ھم اس موضوع پر صرف یہگزارش کریں گے کہ طالبان نے اس حادثے کی ذمہ داری لی ھے۔ اس میں کوئی شک والی بات نھیں اور اسے ایک کانسپرسی تھیوری بنا کر عوام کی نظر میں پیش کرنا تاکہ وہ گمراہ ھوں ایک بڑی ھی نیچی اور گری ھوئی بات ھے۔

ان سب باتوں اور اس کے علاوہ جنگ گروپ کی روزمرہ کی رپورٹنگ سے اس بات کا اندازہ ھوتا ھے کہ جنگ گروپ نے عوام کو دھوکے پر دھوکہ دیتے چلے جانے کی حامی بھری ھوئی ھے۔ شاید جنگ گروپ کو یہ نھیں پتا کہ عوام پاگل نھیں ھے اور اس کو دو جمع دو کرنا آتا ھے۔ شاباش۔ لگے رھو جنگ بھائی۔

اردو پرنٹ میڈیا کی ایک بار پھر غیر ذمہدارانہ رپورٹنگ

Tuesday, July 12th, 2011

آج کی تاریخ کے تینوں اثرورسوخ والے اخبارات (جنگ ،ایکسپریس ،نوائے وقت) کو دیکھنے کے بعد اس بات کا پتا چلتا ھے کے اردو پرنٹ میڈیا کے یھ علم بردار بھی سچائی سے کوسوں دور ھیں اور کھانیاں گھڑنے سے بالکل نھیں کتراتے۔

:سب سے پھلے نوائے وقت کی سرخی نیچے ملاحضہ فرمایں

اس بات پر غور کیجیے کہ نوائے وقت یے کہ رھا ھے کے شمسی بیس خالی کرنے کے مطالبے پر امریکہ ناراض ھو گیا ھے اور اسی وجہ کے تحت امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد روک دی۔

:اب آپکے سامنے پیش ھے روزنامہ ایکسپریس اخبار کی آج کی بڑی سرخی

روزنامہ ایکسپریس اپنی سرخی میں امداد روکے جانے کے ساتھ ساتھ اپنے قارین کو یہ بھی بتاتا ھے کہ وائٹ ھاؤس کہتا ھے کہ اسامہ کے خلاف آپریشن پر اسلام آباد کو بہت تکلیف ھوئی ۔ اس سرخی کو پڑھنے کے بعد ایک عام آدمی تو یھی سوچے گا کہ امریکہ اب ھم سے بدلا لے رھا ھے کیونکہ ھم نے امریک کے خلاف اسامہ آپریشن پر آواز اٹھایئ تھی۔

      :اور اب باری آتی ھے روزنامہ جنگ کی۔ نیچے دی گئی جنگ اخبار کی سرخی دیکھیے

جنگ اخبار اپنے قارین کو یہ بتاتا ھے کہ وائٹ ھاؤس نے یہ کہا ھے کہ پاکستانی اقدامات امداد کی معطلی کا سبب بنے اور رقم اس وقت تک نھیں دی جایئگی جب تک تعلقات بحال نھیں ھو جاتے۔

اب ان تمام مضحکہ خیز سرخیوں کو مد نظر رکھتے ھؤے نیو یارک ٹائمز کی اصل رپورٹ کو دیکھیے تو صحیح  بات صاف واضح ھو جاتی ھے۔ نیو یارک ٹائمز میں چھاپی جانے والی اس خبر کا ایک اھم حصہ جو کہ ھمارے اخبارات نے بخوبی نظر انداز کر دیا نیچے ملاحظہ فرمائے

بات دراصل کچھ یوں ھے کہ روکی جانی والی مدد وہ ھے جو کہ استعمال نھیں ھوتی۔ پاک فوج نے جن آپریشن کو سرانجام دینے سے انکار کیا تھا ان آپریشنز کیلئے جو خرچاجات پاکستان کو امریکہ سے ملنے تھے، اس مدد کا ایک بہت بڑا حصہ  تھے۔ اب ان خرچہجات، جو کہ موجود ھی نھیں، انکے روک دئیے جانے کو غلط پیرائے میں پیش کیا جا رھا ھے۔ کچھ اصلحہ اور پارٹ وغیرہ پاک فوج نے خود لینے سے بھی انکار کیا لیکن وہ بات سامنے نھیں لائی گئی اور اس کے علاوہ ٹرینگ کی صورت میں موجود مدد جس کی اب ضرورت نھیں اسے بھی روک دیا گیا ھے ۔

ایک اور اھم بات یہ ھے کی ان تمام اخبارت نے یہ بات نظر انداز کر دی کہ امریکہ نے سماجی اور سولین مدد کو نھیں روکا بلکہ صرف اس فوجی رقم کو روکا ھے جو کہ وہ خرچہ جات تھے جو اب موجود ھی نھیں ھیں۔ اردو پرنٹ میڈیا کے اس روئے کو اب غیر ذمہدارانہ رؤیا نھیں تو اور کیا کھیں گے۔

پھر وھی بات ” مبشر لقمان کے ساتھ “

Wednesday, July 6th, 2011

مبشر لقمان صاحب کے کل رات کے پروگرام کو دیکھنے کے باد اس بات کا انداذہ ھوتا ھے کہ شاید لقمان صاحب پروگرام سے پھلے اپنا ھوم ورک کرنا بھول گئے۔  لقمان صاحب نے پھر وھی سات ھزار ویزاز والا سوال کیا جس کا جواب کئ بار دیا جا چکا ھے۔ اس کے الاوہ لقمان صاحب کی بات چیت سے کچھ یوں لگ رھا تھا جیسے وہ کسی وجھ کے تحت جان بوجھ کر پرانی خبروں پر چٹ پٹا مصالحہ لگا کر حاظرین کو پیش کر رھے ھیں۔

سب سے پھلے تو اس بات کی وضاحت کر دی جائے کہ نجم سیٹھی صاحب نے اپنے پروگرام “آپس کی بات“ میں امریکی ویزاز کے حوالے سے تمام سوالات کا بخوبی جواب دیا تھا اور سب تحفظات کو دور کر دیا تھا- اسی پروگرام کی ایک کلپ ملاحظہ فرمایں

 

دوم، پاکستان میڈیا واچ نے بھی اسی اشو کے حوالے سے ایک طویل مضمون چھاپا تھا جس میں باقاعدہ اعدادوشمار پیش کیے گئے۔اور اس بات کی کافی گھری وضاحت کی گئ کے کوئ بھی ویزا اسلام آباد سے اجازت کے بغیر نھیں دیا گیا۔واشنگٹن ڈی سی میں موجود پاکستانی ایمبسی کے فراھم کردہ حقائق ان تمام غلط فھمیوں کو بہت پھلے ھی دور کر چکے ھیں جن کا تذکرہ لقمان صاحب کر رھے ھیں۔ اسی پریس کانفرنس کی ایک کلپ ایک بار پھر ملاحظہ فرمایں

 

پروگرام کے آخر میں مبشر لقمان صاحب امریکہ میں موجود پاکستانی سفیر حسین حقانی پر یہ بھی بلا ثبوت الزام لگاتے ھیں کہ وہ مستقل طور پر امریکہ میں رھائش پزیر ھیں اور پاکستان کے “دشمن“ملک یعنی امریکہ کا ساتھ دے رھے ھیں۔ شاید لقمان صاحب کو دوشت اور دشمن میں اب بھی فرق نظر نھیں آتا۔

دراصل اگر بات کی تہ تک جایا جاے تو اس بات کا پتا چلتا ھے کے دنیا ٹی وی کی ایک اور مشھور اینکر مھر بخاری بھی اسی طرح کی غلط فھمیوں کو سنسنی خیز خبروں کا زوپ دے کر اپنے پروگرام کی ریٹنگز بڑھاتی ھیں۔ ضیا احمد صاحب اپنے ایک مضمون میں میں یھان تک لکھتے ھیں کے پنجاب گورنر سلمان تاثیر کا خون ان صاحبہ کے سر پر ھے۔ مھر بخاری جن کو اپنی اسی رپورٹنگ کی وجہ سے سمئا ٹی وی سے فارغ کر دیا گیا تھا آج دنیا ٹی وی پر اوربھی بھاری تنخواہ وصول کر رھی ھیں۔

اگر ان تمام باتوں پر غور کیا جائے تو ھمیں دنیا ٹی وی کی رپورٹنگ میں ایک کافی بڑا نقص نظر آتا ھے اور وہ یے ھے کہ دنیا ٹی وی چینل صرف اپنی ریٹنگز کی خاطر عوام کے جزبات سے کھیل رھا ھے اور بلا ثبوت لوگوں پر الزام تراشی میں مصروف ھے۔

اب کس کی بات مانیں؟

Saturday, July 2nd, 2011

آج کے جنگ اخبار کی سرخیاں  دیکھنے کے باد اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہم پاکستانی صرف  وہ باتیں مانتے ہیں جو ہم ماننا چاہتے ہیں۔ آج  کی ایک سرخی نیچے ملاحذہ فرمایے

 

 

اب ایک دوسری سرخی ملاحظہ  فرمائے جو کے اسی  صفہے کے کافی نیچے ہی چھاپی گئ

 

 

ان دونوں سرخیوں  سے اس بات کا صاف پتا چلتا ہے کہ جنگ گروپ کا عوام کے اس طراح ک خیالات تشکیل دینے میں ایک بڑا ہا تھ ھے۔ ایک طرف یے خبر ہے امریکی شمسی بیس چھوڑنا ہی نہیں چاہتے اور دوسری طرف یے خبر یے کے جرنل اباس صاف صاف کہ رہے ھیں کہ امریکی فوجی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر جا چکے ھیں ۔ اور اب یے بیس آپریشنل نہیں ھے۔

 

سوال اب یے پیدا ھوتا ھے کہ پھلی خبر کو ایک بڑی سرخی اور دوسری کو صفحے کے نیچے ایک چھوٹی سرخی کی صورت کیوں دی گئ؟